انسانی تاریخ کے مہنگے ترین غلاف کعبہ کی تیاری 200کاری گر مصروف

مکہ مکرمہ ( )خانہ کعبہ شریف کے غلاف کو دنیا کا منفرد ہی نہیں بلکہ مہنگا ترین غلاف بھی قرار دیا جاتا ہے۔ غلاف کعبہ انسانی تاریخ کا مہنگا ترین غلاف ہے۔ غلاف کی تیاری کا کام شاہ عبدالعزیز کمپلیکس کے زیراہتمام کیا جاتا ہے۔ غلاف کی تیاری کئی مراحل میں ہوتی ہے۔ مجموعی طور غلاف کی تیاری کے لیے 8 شعبے میں قائم ہیں

 

اور ان شعبوں میں 200 پیشہ ور کہنہ مشق ماہر کاری گر یہ عظیم خدمت انجام دیتے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق غلاف کعبہ کے لیے کپڑے کی تیاری سے غلاف کی تکمیل اور تبدیلی تک 8 مراحل سے گذارا جاتا ہے۔ اس طرح غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے ایک وسیع وعریض کارخانہ قائم ہے جہاں کئی مراحل میں غلاف کی تیاری کا کام کیا جاتا ہے۔ پہلا مرحلہ کپڑے کے تجزیے کا ہے۔ دوسرے مرحلے میں کپڑا رنگا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے لیبارٹری کے مرحلے سے گذارا جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں خود کار طریقے سے سلائی کی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس پر پرنٹنگ کا مرحلہ آتا ہے اگلیمرحلے میں سونے دھاگے سے کڑھائی جاتی ہے۔ ساتواں مرحلہ غلاف کے مختلف حصوں کو جوڑنے کا ہے اور آخر میں غلاف کو تبدیل کیا جاتا ہے

 

 

۔غلاف کعبہ تیاری کے لییایک خصوصی یونٹ قائم ہے جو غلاف کعبہ کے کپڑے کی حفاظت، اس کی تیاری اور اس مرمت کے لیے چوبیس گھںٹے سرگرم رہتی ہے۔غلاف کعبہ دنیا کا مہنگا ترین غلاف ہوتا ہے جس کی تیاری پر 2 کروڑ سعودی ریال خرچ آتا ہے۔ غلاف کی تیاری کے 200 کاری گروں کو کئی سال کی تربیت اور تجربے کے بعد غلاف کی تیاری کے عمل میں شامل کیا جاتا ہے۔غلاف کعبہ پر سونے کڑہائی کے سیکشن کے انچارج کہنہ مشق حمزہ شعبان کا کہنا تھا کہ وہ 36 سال سے صرف غلاف کعبہ پر سنہری دھاگے سے کڑھائی کرتے چلے آ رہے ہیں۔

 

وہ غلاف کعبہ میں ریشم کے ٹکڑے کو چاندی سونے کے پانی میں ڈھلی ڈوری سے جوڑتے ہیں اور غلاف کعبہ پرآیات قرآنی کے کناروں کو نمایاں کرنے کے لیے روئی کا استعمال کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا یہ کام طویل مشق کے ذریعے سیکھا۔ گذشتہ کئی سال کے دوران انہوں نے ہاتھ سے اپنا کام کیا اور اب جدید آلات کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مملکت کی حکومت نے غلاف کعبہ شریف کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ہرممکن سہولت فراہم کی ہے۔غلاف کے مختلف حصوں کو باہم مربوط کرنے کے سیکشن کے ماہر کاری گر احمد باعنتر 37 سال سے یہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ میںغلاف کے چاروں کونوں پرریشم کے ٹکڑے جوڑنے کی خدمت انجام دیتا ہوں۔ اس کے بعد ان پر چارسنہری ٹکڑے جوڑے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ فن اپنے استاد الشیخ عبدالرحیم امین اور ماہر کاری گر احمد سحرتی سے سیکھا۔کاری گر عبداللہ الزبیدی 39 سال سے غلاف کعبہ کی سلائی کا کام انجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غلاف کعبہ کی تیاری اور اس کی سلائی کڑہائی میں خدمت ان کے لیے باعث فخر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خدمت میری زندگی میں برکت کا باعث ہے۔عادل اللقمانی 24 سال سے غلاف کعبہ کی تیاری عمل میں شامل ہیں۔ وہ غلاف کی پرنٹنگ کے سیکشن میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.