جے یو آئی کے رہنماءکی 14 سالہ لڑکی سے شادی؟ ہنگامہ برپا ہوگیا، پولیس متحرک

اسلام آباد ) پاکستانی سیاستدان کی مبینہ طورپر چترال کی 14سالہ لڑکی کیساتھ شادی کی اطلاع پر خیبرپختونخوا پولیس نے تفتیش شروع کردی، پولیس کوخواتین کی بہبود کیلئے کام کرنیوالی ایک نان گورنمنٹل آرگنائزیشن(این جی او) کی طرف سے جمعیت علمائے اسلام (جے یوآئی ایف ) کی طرف سے قلعہ عبداللہ سے منتخب ہونیوالے مولانا صلاح الدین ایوبی کیخلاف شکایت موصول ہوئی تھی ۔

 

 

اپنی درخواست میں انجمن دعوت و عظیمت نے پولیس سے استدعا کی کہ اس سلسلے میں انکوائری کی جائے کہ متعلقہ لڑکی بالغ بھی ہے اور اگر نہیں تو ان تمام لوگوں کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے جو میرج ایکٹ کے تحت ذمہ دارہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق لڑکی کا تعلق چترال کے علاقے دروش سے ہے لیکن اب وہ ضلع سے باہرہے ۔

 

ڈان نیوز کے مطابق مذکورہ لڑکی گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جغورکی طالبہ ہے جہاں اس کی تاریخ پیدائش 28اکتوبر2006ءہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ لڑکی ابھی شادی کی عمر کو نہیں پہنچی ۔ پولیس کے مطابق لڑکی کا نکاح چترال سے باہر ہوا اور معاملے کی تاحال تفتیش جاری ہے ۔

 

 

قانون کے مطابق 16سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کی اجازت نہیں، اگر کم عمر لڑکی کی شادی میں والدین کی بھی رضامندی شامل ہوتو وہ بھی سزا کے مستحق ہیں۔

 

لوئرچترال کی ڈسٹرکٹ پولیس افسر سونیہ شمروز خان نے کہاکہ لڑکی کے والد نے ایسی کسی شادی کی تردید کی اور لکھ کر بھی دیا کہ وہ شادی کی باضابطہ تقریب سے پہلے مقامی پولیس سے اجازت لیں گے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.