رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:تین گناہ ایسے ہیں جو کبھی معاف نہیں ہوں گے؟

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ بندے کے تین قسم کے گناہ معاف نہیں کرے گا۔ ان گناہوں کے علاوہ جس قدر گناہ ہوں گے ان کو معاف کردے گا لیکن ان تینوں گناہوں کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔

 

 

اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا!یہ اس قدر سنگین جرم ہے کہ شرک کرنے والے آدمی کا کوئی عمل قبول نہیں کیا جاتا۔جادوکرنا،یا کروانا !یہ وہ بدترین گناہ ہے ، جو آدمی کو ایمان سے خارج کردیتا ہے۔اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ حسد کرنا !یہ ایسا زہریلا گناہ ہے ، جو ادمی کی سالہاسال کی تمام نمازیں ،تلاوت،صدقات اور دیگر عبادات ایک لمحے میں برباد کردیتا ہے یعنی اگر کوئی آدمی ان گناہوں سے توبہ کئے بغیر مرجاتا ہے تو اس کو معاف نہیں کیاجائے گا ان گناہوں کے علاوہ جتنے گناہ ہوں گے اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا

 

 

تو معاف فرمادے گا۔لہٰذا ان گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے اللہ پاک ہر کسی کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ہمیشہ اپنے ہدایت کے راستے پر چلائے۔کفر اور شرک کے علاوہ جتنے کبیرہ گناہ ہیں، وہ سب توبہ سے معاف ہوسکتے ہیں

 

 

بشرطیکہ توبہ سچی توبہ ہو ،سچی توبہ کا مطلب یہ ہے کہ دل سے پشیمانی ہو، اس گناہ کو فوراً ترک کردیا جائے اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم ہو، اور اگر اس گناہ کی وجہ سے کسی کی حق تلفی ہوئی ہو تو اس کی ادائیگی یا تلافی کی کوشش شروع کردی جائے۔ یعنی اگر حقوق اللہ (نماز ،روزہ ،زکوۃ ،حج وغیرہ) ذمہ پرہیں، تو انہیں ادا کرنا شروع کردے۔ اور اگر حقوق العباد میں کوتاہی کی ہو تو صاحبِ حق کو اس کا حق ادا کرے یا اس سے معاف کروالے، بندے کا حق اس کے معاف کیے بغیر معاف نہیں ہوسکتا،

 

 

حقوق العباد سے متعلق گناہوں سے توبہ کی تکمیل کے لیے یہ ضروری شرط ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے، وہ کسی کو بے شمار گناہوں کے باوجود بھی معاف کرکے جنت میں داخل کرسکتاہے، اور اس میں وہ حق بجانب ہوگا، تاہم یہ بھی ملحوظ رہے

 

 

کہ رحمت اور معافی کی امید پر گناہوں میں مبتلا ہونا عقل مندی نہیں، حماقت ہے، حدیث پاک میں ایسے شخص کو بے وقوف کہا گیا ہے جو خواہشِ نفس کی پیروی کرے اور اللہ تعالیٰ سے امیدیں اور آرزو لگائے رکھے کہ وہ کریم ہے معاف کردے گا، جب کہ عقل مند اس شخص کو قرار دیا گیا ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور آخرت کی تیاری کرے۔ مسلمان کی شان یہ ہے کہ جس کام سے اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ ﷺ نے ناراضی کا اظہار فرمادیا، اس کام کے قریب بھی نہ جائے۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.