ایک مرتبہ یہودیوں کے کسی گھر شادی تھی یہودیوں نے حضرت محمد ﷺ ۔۔۔۔۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے یہودیوں کے یہاں کسی کے گھر شادی تھی وہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پڑوسی ہیں ہمارا بھی کچھ حق ہے۔اس لئے ہماری درخواست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دختر فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہ کو شادی میں شرکت کے لیے بھیج دیں تاکہ ان کے قدوم میمنت لزوم کی برکت سے بزم عروسی کی رونق میں اضافہ ہو۔

 

 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،فاطمہ زہرا اگرچہ میری بیٹی ہے لیکن علی رضی اللہ تعالی عنہ کی زوجہ ہے۔تم لوگ حضرت علی ؓ سے جاکر درخواست کرو اگر وہ چاہیں گے تو شادی میں جانے کی اجازت دے دیں گے۔یہودیوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہماری طرف سے ان سے سفارش فرما دیں ۔

 

 

پھر وہ یہودی حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ اجازت دیں حضرت فاطمہ ؓ شادی میں تشریف لائں۔آپ نے فرمایا کہ اس امر کی مالک خود جناب سیدنا فاطمہ ؓ ہیں ۔اس کے بعد یہودی نے جس کے گھر شادی تھی جناب سیدنا فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دروازے پر آواز دی۔اے بنت رسول علیہ السلام میری لڑکی کی شادی ہے اگر آپ تشریف لے چلیں تو میری عزت بڑھ جائے گی۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا:کہ جناب امیرالمومنین سے اجازت لے لوں تو چلوں ۔یہودی نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا اور حضرت شیر خدا کی خدمت میں گیا تھا سب ہی نے آپ کو مختار کیا ہے ۔

 

 

جناب سیدنا فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا یہ سن کر متفکر ہوئیں اتنے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لے آئے۔فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا :بابا جان یہودی کے یہاں سے آدمی آیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں۔اس کے گھر جائیں یا نہ جائیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاطمہ ؓ تمہاری مرضی ہے ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے عرض کیا ۔ابو جان آپ کی بہت سخت توہین ہوگی کیوں کہ ان کی عورتیں عمدہ اور نفیس لباس و زیورات سے مزین ہوں گی اور میرے پاس وہی پھٹے پرانے کپڑے ہیں جس میں جا بجا خرمے کے پیوند لگے ہیں ۔

 

 

رسول اللہ صلی وسلم نے فرمایا اے بیٹی اسی حالت میں جاؤ جو مرضی معبود ۔چنانچہ جناب سیدنا فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ اللہ جانے کو تیار ہوگئیں۔ ادھر یہودیوں نے اپنی عورتوں کو زیور ات و ملبوسات سے خوب آراستہ کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس لباس اور زیورات تو قطعا نہیں ہیں،وہ تو اپنے پرانے پیوند لگے ہوئے لباس میں شریک شادی ہوں تو سب کی نگاہوں میں سبک و حقیر ہوں گی ادھر اللہ تعالی نے اپنی کنیز خاص کے لئے حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعہ سے جنت کے ایسے حلے اور زیورات بھیجے کہ جن کی مثل وہ نظیر دنیا میں نہ تھی۔ حضرت فاطمہ ؓ کو زیورات و خلعت سے آراستہ کیا اور اپنا جلوس لیکر حضرت فاطمہ ؓ کو روانہ کیا ۔کچھ حوریں دائیں اور بائیں اور کچھ پیچھے اور کچھ آگے روانہ ہوئیں۔

 

 

اس شان سے جناب سیدنا فاطمہ ؓ کی سواری یہودی کے مکان پر پہنچی۔جو نہی آپ رضی اللہ تعالی عنہا یہودی کے مکان پر پہنچے تمام مکان آپ رضی اللہ تعالی عنہا کے نور سے روشن ہو گیا اور ایسی خوشبو پھیلی کہ دور دور تک محسوس ہونے لگی ۔ یہ تجمل و وقار دیکھ کر تمام یہودی عورتیں بے ہوش ہوگئیں۔ تھوڑی دیر کے بعد سب کو ہوش آیا مگر دلہن کو ہوش نہ آیا لاکھ تدبیریں کی مگر سب بے سود ثابت ہوئیں۔دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی ہے۔

 

 

آنا فانا شادی کا مکان ماتم کدہ بن گیا۔حضرت سیدنا فاطمہ ؓ کو یہ دیکھ کر بہت تشویش ہوئی اور فرمایا کہ اطمینان رکھیں ابھی ہوش آجائے گا۔اس کے بعد آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کے لیے ہاتھ بلند کئے اور کہا کہ میرے اللہ میں بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اے میرے اللہ برحق میں تیرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہوں ۔میری عزت تیرے ہاتھ میں ہے تمام لوگ یہی کہیں گے کہ سیدنا فاطمہ ؓ کے آتے ہی دلہن فوت ہو گٰئی خانہ شادی خانہ غم بن گیا ۔ کچھ دیر نہ گزری تھی کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہا کی دعا قبول ہوئی اور دلہن کلمہ شہادت پڑھتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔

 

 

کہنے لگی میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ ایک ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برحق رسول ہیں اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ ان کی دختر ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ مجھ کو مذہب اسلام کی تعلیم فرمائیں اور اسی طرح صدق دل سے وہ عورت مسلمان ہو گئی ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کا یہ اعجاز دیکھ کر تمام یہودی مرد و عورت مسلمان ہوگئے ہیں اور بڑے عزت کے ساتھ آپ کو گھر سےرخصت کیا سارا ماجرہ حضور ﷺکو سنایا گیا یہ سن کر آپ ﷺ نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.