نبی اکرم ﷺ نے قسم اٹھا کر فرمایا جو یہ عمل کرتا ہے اللہ اس کا مال کبھی کم نہیں کرتا۔

بعض باتیں بڑا سبق دیتی ہیں ہم جب پڑھا کرتے تھے تو ہمارے ایک ساتھی تھے تو اتفاق سے وہ کھیلنے کے لئے کچھ وقت ہوتا تو جب وہ انسٹی ٹیوٹ سے باہر نکلتے ہوگا کوئی محترم جلدی میں تو جلدی میں خیال نہیں بھی رہتا کہ کوئی جارہا ہے اس کے اوپر گرد نہ آجائے اسے نقصان نہ ہوجائے اس نے بڑی تیزی سے گاڑ گزاری

 

 

 

وہ رک گیا کہتا ہے کوئی بات نہیں جانا تو میرے بعد ہی ہے نا پانچ سوسال جنت میں اس بندے کی بات دیکھئے حدیث میں اس نے پڑھا تھا کہ فقیروں نے پہلے جانا ہے جنت میں تو جتنا مال زیادہ ہوگا تو حساب بھی تو اتنا ہی زیادہ ہوگا جتنا مال تھوڑا ہوگا تو حساب بھی تو تھوڑا ہی ہوگا شیطان ایک دھوگادیتا ہے اور دھوکا کیا ہے ؟ ابن قیم بیان کرتے ہیں بندے کے پاس مال ہے وہ کہتا ہے میں افضل ہوں اس سے جس کو دے رہا ہوں یہی دھوکہ ہے ایسی بات نہیں ہے افضل وہ ہو گا

 

 

 

جس کے اعمال اچھے ہیں صرف مال والے ہی اچھے ہوتے تو کافر زیادہ اچھے ہوتے کیونکہ ان کے پاس تو پیسہ زیادہ ہے وہ تو رفاہِ عامہ پر بہت خرچ کرتے ہیں ناموری پیداکرنے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تھا کہ فقیر جنت میں امیروں سے پانچ سو سال پہلے جائیں گے ۔آج جہاز گاڑی پر سواری پر کوئی پہلے بیٹھے تو بڑا خوش ہوتا ہے حالانکہ جانا اکٹھے ہوتا ہے دوڑ رہے ہوتے ہیں تا کہ کھانا کھاتے وقت پہلی سیٹ پر بیٹھوں گا شاید تازہ تازہ میری طرف آجائے حالانکہ اس میں قوت اتنی ہی ہے اور قوت ڈالنے والا تو اللہ ہے پانچ سو سال فقیر پہلے

 

 

جنت میں جائے گا امیر سے تو صرف مال اس کی فخر کی بات نہیں ہونی چاہئے بلکہ حسن بصری ؒ نے کہا تھا اپنے شاگرد سے بیٹا ذراجاؤمسجد میں جاکر دیکھو پہلی صفوں میں کون بیٹھے ہوئے ہیں واپسی پر آکر شاگرد نے کہا استاد محترم پہلی دو تین صفوں میں غریب لوگ ہی بیٹھے ہیں کہتے ہیں بیٹا یاد رکھنا جنت میں بھی صفیں ایسے ہی قیامت میں بننی ہیں انہوں نے پہلی صفوں میں ہونا ہے وہ صدقہ بھی نہیں دیتا زکوۃ بھی نہیں دیتا بلکہ

 

 

 

اپنی بیوی بچوں پر خرچ نہیں کرتا جو واجب ہے کروڑوں روپے اپنی بیوی بچوں پر خرچ کر دے قیامت کے دن ہوگا یہ سارا مال اس کے نامہ اعمال میں صدقہ لکھا ہوگا خرچ کس پر کیا بیوی پر بچوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کتنی ہے انسان کرتا اپنی ضرورت پوری ہے اپنی ذمہ داری کو پورا کرتا ہے اللہ وہ بھی صدقہ ہی لکھ دیتے ہیں اور اللہ کے رسول ﷺ نے قسم اٹھائی ہے پوری کائنات کی سچائی جمع ہوجائے تو اللہ کی رسولﷺ کی صداقت کا آغاز ہوتا ہے جہاں دنیا کی صداقت ختم ہو تو پھر اللہ کے رسول ﷺ قسم اٹھالیں قسم کیا اٹھائی میں قسم اٹھاتا ہوں جو صدقہ دیتا ہے اللہ کی قسم اس کا مال کم نہیں ہوگا زیادہ ہوگا ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.