بیوی سے مہر معاف کروانے والے لوگ, آج یہ باتیں سن لیں پھر نہ کہنا ہمیں معلوم نہیں تھا

آج کل ایک رسم مہر اور دودھ معاف کروانے کی چل چکی ہے اب اس رسم کے بارے میں کیا کہتا ہے کہ کس حد تک یہ رسم جائز ہے یا ناجائز ہے۔ اکثر لوگوں کو اس بارے میں معلوم بھی نہیں ہوتا اور یوں جانے انجانے کسی کا حق ماربیٹھتے ہیں۔لہذا ضرورت اس بات کی محسو س ہوئی اس حوالے سے شرعی نقطہ ء نظر پیش کرکے

عوام کی یہ الجھن دو ر کی جاسکے ۔ سب سے پہلے کی بات کرتے ہیں۔ دودھ معاف کرنے والی رسم کی۔ دودھ معاف کرانا یا مہر معاف کرانا ہمارے ہاں ہندوستانی معاشرے میں عام سی بات ہے۔ جہاں تک دودھ معاف کرانے کی بات ہے تو یہ ایک ماں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تواس کو معاف کرنا نہ کرنا کیسا۔ اور یہ گمان کرنا کہ ماں نے دودھ معاف نہیں کیا تو قیامت کے دن بخشش نہیں ہوگی ۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ اگر اس سے مراد ماں کی ناراضگی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کوئی جائز وجہ سے ہے تو دنیا اور آخرت کے لیے خسارے کی چیز ہوگی۔ اس لیے یہاں صرف مہر معاف کروانے کی گفتگو کریں گے۔ آج تمام شادی شدہ افراد اور غیر شادی شدہ افرا د اس بات کا اچھی طرح سے جان لیں ۔ جس کا علم سوائے نکا ح پڑھانے والے اور کسی کو پتہ نہیں ہوتا ۔ مہر پڑھانے کے تین طریقے ہیں۔ سب سے پلے محل معجل یعنی

کہ میاں بیوی پہلی رات ملنے سے پہلے مہر کو عورت کے قبضے میں دے دینا ہے۔ اور جب عورت مطالبہ کرے اسی وقت اس کو ادا کرنا ہے۔ یہ محل معجل کہلاتا ہے۔ یعنی کسی چیز کو جلدی ادا کرنا ہے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر مہر مؤجل ہے۔ یعنی مہر کو کسی مقرر وقت پر ادا کرنا۔ یعنی اتنے دن میں یا فلاں دن بعد آپ کا مہر ادا کردوں گا۔ اور تیسرے نمبر مہر مطلق ہے۔ جس کا کوئی ٹائم پیریڈ نہ ہو۔عجب زندگی میں سہولت ہوتب ادا کرسکتا ہے۔ تو اب مہر کی یہ تین قسمیں سمجھنے کے بعد اصل بات کے قریب آتے ہیں۔ کہ مہر کو کب معاف کرناجائز ہے یا اور کب یہ ناجائز ہوتا ہے۔ آج کل اکثر جگہوں پر مہرمؤجل پر نکا ح ہوتاہے۔ مہر میں زیور ہوتا ہے۔ جو خلوت سے پہلے عورت کے قبضے میں دے دیا جاتاہے۔ لیکن ایسی صورت میں معاف کروانا حماقت اور جہالت ہے۔ یعنی ایسی صورت میں جب آپ نے ادائیگی کر دی ہو تو پھر معاف کروانے کی کوئی حاجت نہیں رہتی ۔ لیکن کچھ ایسے جاہل لوگ

بھی ہوتے ہیں۔ جو مہر ادا کرنے کے بعد بھی بیوی سے معاف کروانے کے لیے یہ کہتے ہیں۔ جو مہر تمہیں دیا ہے زیور کے صورت میں اسے معاف کرکے مجھے واپس کردو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: کہ عورتوں کوانکے مہر خوشی خوشی دو، اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے دیں اس کو شوق سے کھا لو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مہر عورت کا حق اورملکیت ہے ۔ جس طرح مہرکی شکل میں ملی ہوئی رقم یا چیز وہ کسی دوسرے آدمی کو دینے کا اختیار رکھتی ہے اسی طرح اسے یہ بھی اختیار ہے کہ اس رقم کو شوہر کو دیدے۔ یا پھر رقم لینے سے پہلے اس کا کچھ حصہ یا پورا حصہ معاف کردے ۔ اس آیت کریمہ میں عورتوں کی جانب مہر کی رقم معاف کرنے پر اس سے فائدے اٹھانے کی بات کہی گئی ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہےکہ جب عورت اپنی خوشی سے مہر معاف کرے۔ اس میں کسی قسم کا دباؤ نہ ہو۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.