بریکنگ نیوز!!تعلیمی اداروں کی بندش کے فیصلے کو مسترد کر دیا گیا بڑی خبر

اسلام آباد: سپریم کونسل آف پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز نے نجی تعلیمی اداروں کو دو ہفتے کے لیے بند کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔ کورونا کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار تعلیمی ادارے نہیں بلکہ حکومت کی ناقص پالیسیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی شعبہ اس وقت نازک ترین صورتحال سے گزر رہا ہے۔ حکومت نے اس شعبہ کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ملک اظہر محمود، ڈاکٹر محمد افضل بابر، ابراراحمد خان، حافظ محمد بشارت، ملک نسیم احمد، صابر رحمان بنگش ، زاہد بشیر ڈار، عبد الوحید، نصیر احمد جنجوعہ، چوہدری ایاز، انعام الدین،

افتخار احمد، چوہدری عمران اورمحمد آصف کے ہمراہ سپریم کونسل کے کنوینئر چودھری ناصر محمود نے کہا کہ یہ وقت بچوں کی تعلیم کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم کسی بھی طرح تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس وقت کرونا پھیلاؤ کا سبب حکومت کی ناقص حکمت عملی پالیسیاں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دو ہفتے قبل حکومت نے کورونا کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فلائٹ آپریشن کی بحالی، شادی ہالز کو انڈور فنکشن اور اسی طرح دیگر شعبہ جات کو بھی کھلی آزادی دے دی گئی۔ کرونا ایس۔او۔پیز کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی ، حکومت نے مدارس کو بند کرنے کا اعلان نہیں کیا۔تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ اب ہم پر مبنی ہے۔ میٹرک بورڈ کے طلبہ و طالبات کے امتحانات کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ تعلیمی بورڈ نے میٹرک کے امتحانات کا شیڈول بھی جاری کردیا ہے جو کہ 4 مئی کو ہو رہے ہیں، ہم اپنے تعلیمی ادارے 50 فیصد اور مکمل ایس او پی کے ساتھ کھلے رکھیں گے۔سپریم کونسل کے فیصلے کے مطابق تمام تعلیمی ادارے مکمل 28 مارچ کو ہرصورت کھول دیئے جائیں گے۔

کسی بھی نجی تعلیمی ادارے کے خلاف انتظامیہ کی طرف سے کاروائی کی صورت میں سپریم کونسل اس تعلیمی ادارے کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ طویل عرصہ تک نجی تعلیمی ادارے بند رہے اور اس کی وجہ سے بیس ہزار تعلیمی ادارے ختم ہوگئے، حکومت نے تعلیمی اداروں کی بحالی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ حکومتی اعلانات کے باوجود ابھی تک آسان شرائط پر بلا سود قرضوں کا اجراء نہیں کیا گیا۔ حکومت اپنے کیے گئے وعدے کو پورا کرے اور قرضے جاری کرے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.