صارفین کو اربوں روپے کا ریلیف دینے کا فیصلہ! بجلی سستی، نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا

صارفین کو اربوں روپے کا ریلیف دینے کا بڑا فیصلہ! بجلی سستی، نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔۔۔۔اسلام آباد(نیو ز ڈیسک ) وفاقی حکومت نے

بجلی کے صارفین کو اربوں روپے کا ریلیف دینے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ وفاق نے بجلی کے بلوں پر عائد نیلم جہلم سرچارج کو ختم کر کے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔2سال سے جمع ہونے والے سرچارجز صارفین کو واپس کرنے کا بھی حکم دے دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پانچ ارب روپے سے زائد جمع ہونیوالے سرچارج کو واپس کیا جائیگا۔ دس پیسے فی یونٹ کے حساب سے ہر ماہ سرچارجز وصول کئے جا رہے تھے۔ دسمبر 2018 سے اب تک جمع ہونیوالے سرچارجز کا سپیشل آڈٹ کروانے کے بھی احکامات دے دیئے گئے۔ وزارت پاور ڈویژن نے تمام کمپنیوں کے سربراہوں کو مراسلہ ارسال کر دیا۔دوسری جانب نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پڑوسی ملک بھارت کے

ساتھ تجارت جسے کچھ سادہ لوح حکومت کا ’’یوٹرن‘‘ قرار دے رہے ہیں کیونکہ جانتے ہی نہیں یا جاننا چاہتے ہی نہیں کہ یہ فیصلہ سو فیصد درست اور زمینی حقائق کے عین مطابق ہے جس پر حکومت داد کی مستحق ہے۔بھارت سے چینی، یارن، کاٹن کی درآمد ایک مثبت اور احسن فیصلہ ہے ( یاد رہے بھارت میں چینی 20فیصد کے لگ بھگ سستی ہے ) ممکن ہے یہ ایک پاپولر فیصلہ نہ ہو اور کچھ لوگ اسے حکومت کے خلاف بھی استعمال کرنے کی کوشش کریں لیکن میری دیانتدارانہ رائے کے مطابق یہ فیصلہ زمینی حقائق کے عین مطابق ہے ۔مجھے یقین ہے کہ بھارت میں چینی، یارن، کاٹن کی لابیز بہت طاقتور اور موثر ہوں گی ۔’’اجازتوں‘‘ کے دائرہ میں وسعت کے بعد دیگر اشیاء کی لابیز بھی متحرک ہوں گی تو نہ صرف پاک وہند بلکہ اس پورے خطہ کیلئے یہ ایک نیک شگون ہوگا۔سوسو سال تک آپس میں لڑنے والے گوروں کو عقل آ گئی تو کیا اس خطہ کے لوگ اتنے ہی گئے گزرے ہیں کہ صدیوں ساتھ رہنے کے باوجود اپنے تنازعات مکالمہ سے طے کرکے ترقی پر فوکس نہ کر سکیں ۔دونوں طرف

غربت، جہالت، بیروزگاری عروج پر ہے تو کیا ان کروڑہا بدقسمت انسانوں کے نصیب میں یہی کچھ لکھا ہے ؟جدید دنیا کی کوئی لڑائی ایسی نہیں جو میدان و آسمان سے نکل کر مذاکرات کی میز اور مکالمہ تک نہ آئی ہو اور یوں بھی محاورتاً نہیں حقیقتاً دنیا ہتھیاروں کے ڈھیر پر بیٹھی ہے۔دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان محاذ آرائی کسی کے بھی وارے میں نہیں اس لئے اس طرح کے فیصلوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔کتنی احمقانہ بات ہے کہ واہگہ بارڈر کےساتھ پیدا ہونے والی اشیاء وہاں سے ممبئی جائیں،ممبئی سے یو اے ای پہنچیں تو قیمت میں اس خاطر خواہ اضافہ کے بعد ہم انہیں یو اے ای سے امپورٹ کریں۔میری دعا ہے کہ یہ تجارت بابرکت ثابت ہو اور اس خطہ کا عام آدمی بھی سکھ کا سانس لیکر مین سٹریم میں آکر اپنی وہ صلاحتیں منوا سکے جو غربت کے بوجھ تلے سسک رہی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.