ایک براہ راست فون کال میں وزیراعظم عمران خان نے شاندار بات کہہ ڈالی

اسلام آباد( ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمرا ن خان نے کہاہے کہ ماضی کے حکمران ملک کو لوٹ لو ٹ کر باہر اپنی جائیدادیں بنا چکے ہیں مگر ملک کو خسارے میں چھوڑ گئے اس وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا،سٹیٹ بینک کے قوانین میں ترمیم آئی ایم ایف کی شرائط کا حصہ ہے۔

میرا سب کچھ پاکستان میں ہے، قوم مجھ پر اعتماد رکھے ملک کے مفاد کے خلاف کچھ نہیں ہونے دوں گا۔” آپ کا وزیر اعظم آپ کے ساتھ “ میں وزیر اعظم عمران خان نے سٹیٹ بینک آرڈنینس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قوم کوپہلے آئی ایم ایف کے بارے سمجھنا ہوگا، جب ہمیں حکومت ملی تو تب ملکی معیشت کے حالات بہت برے تھے،اس وقت ہمیں تاریخی دو خسارے تھے، ن لیگ کو حکومت سنبھالتے وقت اڑھائی ارب کا خسارہ ملامگر جب ہمیں حکومت ملی تو بیس ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا تھا ، ہمارے پاس ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لئے ایک ہی راستہ تھا کہ ہم قرضہ لیں۔ ہم زیادہ سود پر قرض نہیں لے سکتے تھے صرف آئی ایم ایف واحد ادارہ ہے جو کم سود پر قرض فراہم کرتا ہے اس وجہ سے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ آئی ایم ایف سے قرض ملنے کے بعدہی دنیا کے دوسرے بینک بھی قرض دیتے ہے۔ جب آپ کسی سے قرض لیتے ہیں تو آپ سے واپسی کا ذریعہ پوچھا جاتا ہے ، انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ بھی جب کسی ملک کو قرض دیتا ہے تو واپسی کےلئے بعض اقداما ت کرنے کا کہتا ہے۔جب ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے انہوں نے اپنی شرائط لگادی۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اللہ کا کرم ہے کہ آج

ہماری ساری چیزیں مثبت ہیں، پاکستان کاکرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ پچھلے سات مہینے سے سر پلس میں چلا گیا ہے جو بہت بڑی کامیابی ہے ۔آج اسی لئے روپیہ طاقت پکڑ رہا ہے۔اگر خسارہ ہوتا توروپیہ نیچے گرجاتا ۔یہ سارا شور اس لئے ہے کہ ابھی صرف سرسری سی چیز سامنے آئی ہے، اس پر ابھی قومی اسمبلی میں بحث ہونی ہے۔ظاہر ہے ہم کوئی ایسی چیز نہیں کرنے لگے جس سے ملک کا نقصان ہو۔ اگر میں نے ملک چھوڑ کر بھاگنا ہوتا توشاید میں کوئی ملکی مفاد کے خلاف فیصلہ کرتا،فکر کرنے والی بات نہیں ہے ہم مسلسل آئی ایم ایف سے بات کررہے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.