کوئی بھوکا نہ سوئے،وزیر اعظم عمران خان کا حکم، تین مزید شہروں میںمفت کھانا تقسیم کرنے کا پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد () وزیر اعظم پاکستان نے احساس کے تحت 10مارچ 2021کو راولپنڈی اور اسلام اآباد میں دیہاڑی داروں کودن میں دو بار مفت کھانے کے ڈبے فراہم کرنے کیلئے ٹرک کچن کے تصور سے کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کا اآغاز کیا تھا۔ وزیر اعظم کی خصوصی ہدایات کے مطابق رمضان کے مقدس ماہ سے قبل اس پروگرام کو مزید تین شہروں میں توسیع دی جارہی ہے۔ لاہور، فیصل آباد اور پشاور میں احساس کوئی بھوکا نہ سوئے

موبائل ٹرک پکا ہواکھانا لے کرمفت تقسیم کرنے کیلئے مزدوروں اور ہسپتالوں کے نزدیک علاقوں کادورہ کریں گے۔ تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویڑن کے مطابق احساس کوئی بھوکا نہ سوئے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں دو ٹرک جڑواں شہروں کے غریب اور مزدور طبقے کو کھانا فراہم کررہے ہیں۔ ہر ٹرک نامزد کردہ سروس پوائنٹس پر روزانہ 1500افراد کو کھانا کھلاتا ہے۔ تین مزید اضلاع میں توسیع سے 12نئے ٹرک کچن کے ذریعے ان افراد میں کھانا تقسیم کیا جائیگا جنہیں احساس پناہ گاہوں اور لنگر خانوں تک رسائی

حاصل نہیں ہے۔احساس کوئی بھوکا نہ سوئے وزیر اعظم کا سال 2021کا وژن ہے۔ نئے سال کی شام کو اسلام آباد میں ترنول پناہ گاہ کا افتتاح کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے سال 2021کیلئے اپنی قرارداد کا عزم کیا تھا کہ یہ پروگرام اس بات کو یقینی بنائے گا کوئی شخص خالی پیٹ نہیں سوئے گا۔ مفت کھانے کی فراہمی سے غریب، مستحق، مزدور اور اجرت پر کام کرنے والوں کو مشکل سے کمائی جانے والی رقم اپنے بچوں اور گھرانوں کے کھانے پر استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔صحت بخش کھانے کی فراہمی کیلئے احساس کوئی بھوکا نہ سوئے ٹرک کچن معیاری کھانا پکانے کے آلات سے لیس ہے۔ احساس کوئی بھوکا نہ سوئے ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر کام کررہا ہے جس کے تحت ٹرک کچن کے آپریشنز کی ذمہ داری پاکستان بیت المال جبکہ کھانے کی فراہمی کی ذمہ داری سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کی ہے۔ تخفیف غربت وسماجی تحفظ ڈویژن نے نجی شعبے کو اس پروگرام کی فنڈنگ کرنے کی ترغیب کیلئے ایک ڈونر کواآرڈینیشن گروپ قائم کیا ہے۔ مخیرحضرات، نجی شعبے، بین الاقوامی اداروں ، سول سوسائٹی اور دیگر افراد کی جانب سے دیئے جانے والے فنڈز کی نگرانی کواآرڈینیشن گروپ کے ذریعے کی جائے گی۔۔۔۔۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.