سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بارے میں اچانک بڑا فیصلہ

پنجاب- تنخواہیں بڑھانے سے خزانے پر 66 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا، بیوروکریسی نے حکومت کو آگاہ کر دیا، صوبائی ملازمین کی چھانٹی کرنے کی ہدایت

لاہور- بیوروکریسی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے میں بڑی رکاوٹ بن گئی. وفاق کے طرز پر پنجاب کے سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا تو سالانہ 66 ارب روپے کا بوجھ صوبائی خزانے پر پڑے گا، مھکمہ خزانہ کے حکام نے حکومت کو آگاہ کر لیا. تفصیلات کے مطابق سرکاری ملازمین کا حکومت پنجاب سے مظالبہ ہے کہ وفاق کے طرز پر ان کی تنخواہوں میں بجٹ سے قبل 25 فیصد اضافہ کیا جائے.

بیوروکریسی کی نئی منطق کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے سے صوبائی خزانے پر بوجھ پڑے گا. بیوروکریسی نے حکومت کو سرکاری خزانے پر پڑنے والے بوجھ کے بارے میں آگاہ کر دیا.
زرائع کے مطابق محکمہ خزانہ کے حکام نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ اگر وفاق کے طرز پر پنجاب کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا تو سالانہ 66 ارب روپے کا بوجھ سرکاری خزانے پر پڑے گا جبکہ بجٹ سے پہلے تنخواہوں میں اضافہ ہونے سے 22 ارب روپے کا الگ بوجھ ہو گا جس پر اب حکومتی کمیٹی نے سب کمیٹی بنا کر صوبائی ملازمین کی چھانٹی کرنے کی ہدایت کر دی ہے جس میں اضافی تنخواہ لینے والے ملازمین کو نظرانداز کر کے نیا تخمینہ لگایا جائے گا

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.