وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پر پابندی لگانے کی منظوری دے دی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی کابینہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دے دی، کابینہ سے منظوری سرکولیشن سمری کے ذریعے لی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ تحریک لبیک پر پابندی کی سفارش پنجاب حکومت نے کی تھی، وزیراعظم عمران خان ٹی ایل پی پر پابندی کے مسودے کو پہلے ہی

منظور کر چکے تھے۔ رپورٹ کے مطابق سمری میں کہا گیا تھا کہ تحریک لبیک کے کارکنوں کی جانب سے ملک بھر میں پُرتشدد کارروائیاں کی گئیں جن میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 580 زخمی ہوئے، اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 30 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

حکومت کی جانب سے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے تحریک لبیک کے 2063 کارکن گرفتار اور 115مقدمات درج کیے گئے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت کی ہدایت پر اسلام آباد میں تحریک لبیک کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف آج مزید 7 مقدمات درج کئے گئے ہیں،ان مقدمات میں پولیس اہلکاروں پر حملے، کارسرکار میں مداخلت اور دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔گذشتہ روز اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کےتحت

پابندی کا فیصلہ کیا ہے، ٹی ایل پی پر پابندی کی سمری کابینہ کو بھجوارہےہیں، فیصلہ اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997(11)بی کےتحت کیا۔وزیر داخلہ شیخ رشید نے ٹی ایل پی کے سوشل میڈیا چلانے والے لوگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سرینڈر کردیں، ان کی ایما پر تھانوں پر حملے ہوئے ، آپ نے ایمبولینسز کو روکا ہے , پولیس اہلکاروں کو اغوا کے بعد تشدد کانشانہ بنایا، پرتشدد واقعات میں دو پولیس اہلکار شہید جبکہ تین سو چالیس سے زائد زخمی ہوئے۔وفاقی وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پنجاب حکومت نے

تنظیم پر پابندی کی سفارش کی ہے، ٹی ایل پی کے سیاسی حالات پر نہیں بلکہ کردار کی وجہ سے پابندی لگارہےہیں، ٹی ایل پی والوں کو کہتا ہوں کہ آپ حکومت کو مسائل سے دو چار نہیں کرسکتے۔وزیر داخلہ نے واضح کیا تھا کہ ختم نبوت کے قانون میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے، ہم ایسا مسودہ چاہتے ہیں جس سے نبیﷺ کا جھنڈا بلند ہو، اب قرارداد وہی آئے گی جس سے دنیا میں پیغام عاشق رسولﷺ کا جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.