حکومت بے بس،فوج کی مدد لینے کا فیصلہ۔۔اگلے چند دنوں میں کیا ہونے والا ہے ؟بڑی خبر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام انسداد کورونا ایس اوپیز پر عملدرآمد نہیں کررہی ،اگر احتیاط نہ برتی گئی توہمیں بڑے شہر بند کرنا پڑیں گے ،پاکستان لاک ڈائون کے متحمل نہیں ہوسکتا ہے ،لاک ڈائون کیا گیا تو معیشت تباہ ہوجائیگی،ایس

او پیز پر عملدرآمد کرانے کیلئے اب فوج بھی مدد کرے گی ۔قومی رابطہ کمیٹی برائے انسداد کورونا کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم
نے کہاکہ پاکستان میں کورونا سے وہ حالات پیدا نہیں ہوئے جو بھارت میں ہوئے ہیں کیونکہ ہم نے اپنے ہسپتالوں کی گنجائش ایک سال قبل ہی بڑھا دی تھی ،اگر یہ پچھلے سال والے حالات ہوتے تو آج پاکستان میں بھی ہندوستان جیسے حالات ہوتے ۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ کورونا کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور میں آپ سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ برائے مہربانی

گھر پررہیں ، ایس او پیز پر عملدرآمد کریں ، ماسک پہننے سے آپ تقریبا آدھے محفوظ ہوجاتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر عیدتک آپ نے احتیاط نہ برتی تو پھر ہمیں مجبور ا سخت اقدامات اٹھانے پڑیں گے،شہروں کا لاک ڈائون کرنا پڑے گا ، ہمیں کورونا کو روکنے کے لئے مکمل لاک ڈائون کرنا پڑے گا لیکن ہم لاک ڈائون کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔مجھے تو آج بھی کہا جارہاہے کہ آپ لاک ڈائون کردیں مگر میں دیہاڑی دار ، مزدور اور محنت کش طبقے متاثر ہوتا ہے اس لئے ابھی ہم رکے ہوئے ہیں اگر عوام نےاحتیاط نہ کی تو پھر لاک ڈائون مجبوری بن جائیگا۔پچھلے رمضان المبارک میں ہم نے اپنی مساجد کو بند نہیں کیا جس پر ہمیں فخر ہے اور ہمارے علما نے عوام کو ایس او پیز پر عملدرآمد کرایا اور پاکستان کورونا سے بچا رہا ہے لیکن مجھے افسوس ہورہا ہے کہ مرتبہ بہت کم لوگ کورونا ایس او پیز پر چل رہے ہیں اور لوگ احتیاط

نہیں کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ لاک ڈائون سے ہماری معیشت کو نقصان پہنچے گا ، دکانداروں ، فیکٹریز کو بھی نقصان پہنچے گا لیکن سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوں گے ۔وزیراعظم نے کہاکہ میں نے پاک فوج کو بھی ہدایت کردی ہے کہ وہ ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کیلئے پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں کیساتھ سڑکوں پر نکلیں کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگوں میں کورونا وباء کا کوئی خوف نہیں اور وہ احتیاط نہیں برت رہے جس سے کورونا کاپھیلائو بڑھ رہا ہے ۔آخری بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ویکسین پاکستان میں اور زیادہ لانی چاہیے اور دنیا کی مثالیں دے رہے ہیں ، ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ ویکسین منگوا کر اپنے عوام کو لگائیں ،چین سے بھی ویکسین مانگی ہے لیکن یہ دنیا بھر میں شارٹ ہوگئی ہے ،تاہم ہمیں ویکسین کی بجائے احتیاط پر بھروسہ کرنا پڑے گا ،کمروں میں جب بھی بیٹھے سب ماسک پہنیں اور اس پر ہم پوری طرح زور لگائیں گے کہ

ایس او پیز پر عملدرآمد کرائیں اور اس میں ہمارے ساتھ پاک فوج بھی بھرپور تعاون کرے گی ۔وزیراعظم کی زیر صدارت ہونیوالے قومی رابطہ کمیٹی برائے انسداد کورونا کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے کہاکہ بدقسمتی سے جو حالات پیدا ہورہے ہیں اور عوام احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کررہی جس پر ہوسکتا ہے کہ ہمیں شہروں میں لاک ڈائون کرنا پڑے ، این سی او سی کو ہدایات دی گئی ہیں کہ تمام صوبوں کیساتھ ملکر ایک پلان بنایا جائے کہ کس طریقے سے ہم اس وباء کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور لوگوں کو مشکلات سے بچانے کے لئے کونسے اقدامات کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ جن علاقوں میں کورونا کیسزبڑھ رہے ہیں ان علاقوں میں تمام سکولوں کو بند کردیا جائے گا بشمول نویں اور دسویں کی کلاسز بھی عید تک بند ہو جائینگی ۔بازار چھ بجے تک کھلے رہیں گےاس کے بعد

صرف اشیائے ضروریہ والی دکانیں کھلی رہیں گی ،اس حوالے سے فہرست جاری کردی جائے گی ۔ہوٹل کے اندر کھانے پر پہلے بھی پابندی تھی اور عید کے بعد ہوٹل آئوٹ ڈور پر بھی پابندی لگ سکتی ہے ۔دفاتر ٹائم کو دو بجے تک محدود کیا جارہا ہے ،عید کی شاپنگ ضرور کریں لیکن دن کے وقت کریں شام کو افطار کے بعد بازار کھلے نہیں ہوں گے ،ہماری درخواست ہے کہ آخری پانچ دن کا انتظار نہ کریں عید کی شاپنگ ابھی تک شروع کردیں کیونکہ رش میں کورونا وائرس کے پھیلائو کا زیادہ خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔دفاتر میں بھی پچاس لوگوں سے زائد کو نہیں بلایا جائے گا ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.