اے سی سونیا صدف کے ساتھ تلخ کلامی ، فردوس عاشق اعوان نے غلطی تسلیم کر لی

لاہور ( نیوز ڈیسک )وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے اے سی سیالکوٹ سونیا صدف کیلئے نامناسب الفاظ استعمال کرنے کا اعتراف کرلیا۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روزے کی حالت میں چینی لائن میں کھڑے عوام کو دیکھ کر دکھ ہوا جس پر اسسٹنٹ کمشنر کو طلب کیا۔انہوں نے کہا میرا جملہ غیر مناسب تھا، انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں، غصے میں ایسے الفاظ نکلے۔فردوس عاشق وان نے مزید کہا کہ اے سی اور ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر سیاست کرنے والی خاتون نہیں۔پروٹوکول والی باتیں بے بنیاد ہیں، میرا کام حکومتی ترجیحات کا جائزہ لینا ہے۔

رمضان بازار لگانے کے باوجود حکومت کی نیک نامی کے بجائے بدنامی ہورہی تھی۔قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار سے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے ملاقات کی اس موقع پر چیف سیکرٹری جواد رفیق بھی موجود تھے ۔ملاقات کے دوران معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق نے وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار کو رمضان بازار کی ناقص صورتحال اور اے سے کے غیر پیشہ وارانہ رویہ سے آگاہ کیا ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق کو معاملے کی انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ناقص اشیا کی فروخت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اے سی سیالکوٹ سے کہا کہ یہ آپ کی اور سٹاف کی ڈیوٹی ہے کہ

وہ چیزوں کی کوالٹی چیک کریں۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ سستے رمضان بازاروں میں جتنا تھرڈ کلاس پھل فروخت کیلئے رکھا گیا ہے، اسے فوری طور پر یہاں سے اٹھوایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سستے رمضان بازار حکومت نے لگوائے ہیں، اسے لیٹروں لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں دیا جا سکتا۔گورنمنٹ یہاں پر بھی جوابدہ ہے۔جب اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ نے اپنا موقف دینے کی کوشش کی اور کہا کہ ہمارے بندے ہر وقت یہاں موجود رہتے ہیں تو اس پر فردوس عاشق اعوان نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ تنخواہ کس چیز کی لیتی ہیں؟ میں اس چیز کی تنخواہ نہیں لیتی، یہ آپ کا فرض ہے کہ یہاں دیکھیں کہ کیا کچھ غلط ہو رہا ہے۔ڈاکٹر فردوس اعوان نے کہا کہ افسر شاہی کی کارستانیاں حکومت بھگت رہی ہے۔ آپ اسسٹنٹ کمشنر ہیں تو عوام کو فیس کریں، چھپ کیوں رہی ہیں۔ اس موقع پر اے سی سونیا صدف غصے سے پنڈال سے باہر نکل گئیں۔واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے اور صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.