حماس کی جوابی کاروائی، اسرائیل کی تیل پائپ لائن اور آئل ریفائنری تباہ کردی

غزہ(نیوز ڈیسک)فلسطین کی تنظیم حماس نے اسرائیلی حملے کا جواب دیتے ہوئے اسرائیل کے ساحلی شہر عسقلان پر راکٹ حملہ کیے ۔تفصیلات کے مطابق فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے ساحلی شہر پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔جس کے نتیجے میں اسرائیل کی تیل پائپ لائن اور آئل ریفائنری تباہ ہوگئی۔حماس کے حملوں میں دو اسرائیلیوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔حماس کی جانب سے اسرائیل پر سو سے زائد راکٹ حملوں کا دعوی کیا گیا ہے۔نہتے فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے اور مسجد اقصیٰ پر حملے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کرنے والی ظالم اسرائیلی فوج پر غزہ کی مزاحمتی تحریک حماس کی جانب سے بھرپور جوابی وار کیا گیا۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق حماس نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر 130 راکٹ داغے ہیں۔حملہ غزہ کے رہائشی علاقوں میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے بعد کیا گیا۔ حماس کے جواب وار کے بعد اسرائیل نے تل ابیب کا بین الاقوامی ائیرپورٹ ہنگامی طور پر بند کر دیا ۔ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی فضائی بمباری کے نتیجے میں اب تک 24 افراد شہید اور 180 زخمی ہو چکے ہیں۔ شہدا میں

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

بچے بھی شامل ہیں۔مظلوم فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل نے اس وقت وحشیانہ بمباری کی ہے جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہے اورعید الفطر میں صرف دو دن رہ گئے ہیں۔عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی بمباری میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے ہر طرف چیخ و پکار سنائی دیا، زخمیوں کی آہ و بکا سے آسمان لرز اٹھا اور خوف و دہشت کے عالم میں ماں باپ اپنے معصوم بچوں کو بچانے کی کوشش میں ادھر ادھر بھاگتے رہے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملے کے نتیجے میں حماس کے کمانڈرز کو

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ جبکہ فلسطین کے صدر محمود عباس نے غزہ پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عید الفطر کی مناسبت سے منعقد کی جانے والی تقاریب اب نہیں ہوں گی۔فلسطین کے صدر نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی جرائم کو روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.