حکومت کا صرف اختیاری مضامین کے امتحانات لینے کا فیصلہ

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ

ملک بھر میں 10 جولائی کے بعد بورڈ امتحانات لینے کا متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیاہے، نویں سے بارہویں جماعت کے طلبا صرف اختیاری مضامین کے امتحان دیں گے، امتحان کے بغیر گریڈ نہ دینے کی کئی وجوہات ہیں، لوگ ہمیں انگلینڈ کی مثال دیتے ہیں، خبر آئی ہے والدین انگلینڈ میں عدالت میں مقدمہ کرنے لگے ہیں،امتحانات لینے کے فیصلے پر کسی قسم کی نظر ثانی نہیں ہوگی۔ بدھ کو وزیرتعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت اسلام آباد میں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس ہوا، جس میں

تمام صوبائی وزرائے تعلیم شریک ہوئے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ تمام فیصلے بین الصوبائی وزرائے تعلیم میں کیے گئے جو ایک فعال ادارہ بن کر ابھرا اور تمام فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے کہ تعلیمی ادارے بند کب ہوں گے، جب کھلیں گے، امتحانات کا کیا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں اور وفاقی اکائیوں کے فیصلے متفقہ اور مشترکہ طور پر کیے گئے اور اسی لیے ہمارے لیے مشکلات حالات میں صحیح فیصلے کرنا ممکن ہوا۔انہوں نے کہاکہ

جب گزشتہ سال امتحانات کے بغیر بچے پاس کرنے کا تجربہ کیا اور تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم نے پچھلے سال دسمبر میں ایک فیصلہ کیا جس پر ہم آج تک قائم ہیں اور وہ فیصلہ یہ ہے کہ امتحان کے بغیر کوئی گریڈ نہیں ملیں گے۔وزیر تعلیم نے کہا کہ امتحان کے بغیر گریڈ نہ دینے کی کئی وجوہات ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سب سے شفاف ٹیسٹ بیرونی امتحانات کا ہے کیونکہ بصورت دیگر جانبدارانہ رویہ آجاتا ہے، کسی اسکول میں کوئی ٹیچر زیادہ کھل کر نمبر دیتا ہے اور کوئی

نہیں دیتا لہٰذا ایک پیمانہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ لوگ انگلینڈ کی مثال دیتے ہیں لیکن ابھی خبر آئی ہے کہ والدین انگلینڈ میں عدالت میں مقدمہ کرنے لگے ہیں کیونکہ انہیں اسکول کی جانب سے دیے گئے گریڈ سے اعتراض ہے لیکن بیرونی امتحان پر لوگ اعتراض نہیں کرتے کیونکہ یہ ایک ایسا پیمانہ ہے جو سب کے لیے یکساں اور برابر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں اکثر طلبا وہ ہیں جو امتحان سے پہلے آخری ڈیڑھ دو مہینے میں پڑھتے ہیں، ہم سب طالبعلم رہے ہیں تو

سب کو پتہ ہے کہ امتحان قریب آتا تھا تو پڑھائی شروع ہوتی تھی، اس سے پہلے نہیں ہوتی۔شفقت محمود نے کہا کہ امتحان نہ لینے کا مطلب یہ ہے کہ جو تھوڑی بہت پڑھائی ہونی بھی تھی، وہ بھی نہیں ہوتی، اس لیے ہم نے کہا کہ امتحان کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اس سے پڑھائی کے نقصانات میں کچھ کمی آئے گی، ان وجوہات کی بنا پر فیصلہ کیا کہ اس سال امتحان ضرور لینے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کیمبرج کا امتحان آیا تو بیماری کی شدت میں ایکدم اضافہ ہوا لیکن

ہم نے پھر بھی اے ٹو کا امتحان لیا اور اگلے چند دن میں وہ امتحان مکمل ہو جائے گا اور 25 سے 30 ہزار بچوں نےوہ امتحان دیا، جو بخیروعافیت ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ او لیول کے بچوں کے لیے کیمبرج نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ خصوصی امتحان 26 جولائی سے 6 اگست تک لیں گے۔وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ تمام وزرائے تعلیم کے اجلاس میں ہم نے طلبا کی اس بات کو تسلیم کیا کہ اسکول بند ہونے کی وجہ سے کورس ورک مکمل نہیں ہو سکا تو یہ طلبا کی درست شکایت ہے جس کو

ہم تسلیم کرتے ہیںکیونکہ اسکول کی بندش کے سبب یکسوئی سے پڑھائی نہیں ہو سکی۔انہوں نے کہا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ ہم نے آج سے کئی ماہ پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ سلیبس میں سے 40فیصد کو کم کردیا تھا اور وہ اس لیے کم کیا تھا تاکہ بچوں کو سلیبس مکمل کرنے میں مشکل پیش نہ آئے اور طلبا کا یہ کہنا درست ہے کہ کورس ورک مکمل نہیں ہو سکا لہٰذا اس چیز اور بیماری کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نےکچھ فیصلے کیے ہیں اور کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔انہوں نے کہاکہ

نویں اور دسویں کے اختیاری مضامین اور حساب کے امتحان لیے جائیں گے اور اس طرح نویں، دسویں کا امتحان چار مضامین میں ہو گا، باقی مضامین میں نہیں ہو گا۔شفقت محمود نے کہا کہ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات صرف اختیاری مضامین کے لیے جائیں گے، یہ ہم نے اس لیے بھی سوچا کہ اگر کسی نے ڈاکٹر بننا ہے کہ تو اس نے بائیولوجی لی ہوئی ہے، کسی نے انجینئر بننا ہے تو فزکس اور باقی مضامین لیے ہوئے ہیں، تو طلبا نےجس بھی

شعبے میں جانا ہے وہ اس کا امتحان دے دیں اور باقی مضامین کا امتحان نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان بھر کے بورڈز 24 جون سے امتحانات شروع کررہے تھے لیکن اب ہم نے ان سے کہا ہے کہ 10 جولائی کے بعد امتحانات شروع کیے جائیں جس سے بچوں کو تیاری کے لیے مزید دو تین ہفتے مل جائیں گے جبکہ ہم نے بورڈز کو پرچوں کے درمیان وقفہ رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *