کسی کو اپنی زندگی میں رکھنے کے لئے نکاح نامے پر دستخط کی کیا ضرورت ہے؟ صرف پارٹنر بن کر کیوں نہیں رہ سکتے، ملالہ یوسفزئی کا برطانوی میگزین کو انٹرویو

لندن(مانیٹرنگ +این این آئی)کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ اور سماجی کارکن ملالہ یوسف زئی

برطانوی فیشن میگزین ووگ کے سرورق کی زینت بن گئیں۔ ملالہ یوسف زئی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ انہیں شادی کے خوبصورت رشتے کے متعلق بتاتی رہتی ہیں اور ان کے والد کے پاس

ایسے لوگوں کی ای میلز آتی ہیں جو انہیں اپنی جائیداد اور پیسوں کا بتا کر مجھ سے شادی کی خواہش کرتے ہیں، اس موقع پر ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ لوگوں کو شادی کیوںکرنا ہے، اگر

آپ اپنی زندگی میں کسی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو نکاح نامے پر دستخط کرنے کی کیا ضرورت ہے، صرف پارٹنر بن کر کیوں نہیں رہ سکتے، ملالہ یوسف زئی کو ووگ میگزین کے اگلے ماہ جولائی میں شائع ہونے والے ایڈیشن کے سرورق کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ملالہ نے فیشن میگزین کے سرورق کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے کہا کہ

میں ایک ایسی لڑکی جس کے دل میں وژن اور مشن ہو اس کی طاقت کو جانتی ہوں اور مجھے امید ہے کہ ہر وہ لڑکی جو اس سرورق کو دیکھے گی وہ یہ جان جائے گی کہ وہ دنیا کو تبدیل کرسکتی ہے۔ملالہ کی شیئر کی گئی تصویر اور ٹوئٹ کو سوشل میڈیاصارفین کی جانب سے خوب سراہا جارہا ہے۔دوسری جانب ملالہ کے انٹرویو کوبرطانوی فیشن میگزین ووگ کی جانب سے

ملالہ کی غیر معمولی زندگی کے عنوان سیسوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔انٹرویو میں ملالہ کا کہنا تھا کہ دوپٹہ ہمارے پشتون ثقافت کی پہچان ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا تعلق کہاں سے ہے، جب ہم

پشتون یا پاکستانی لڑکیاں اپنے ثقافتی لباس پہنتے ہیں تو ہمیں مظلوم، بے آواز سمجھا جاتا ہے لہذا میں ہر ایک کو بتانا چاہتی ہوں کہ آپ اپنی ثقافت کے اندر بھی خود کی آواز بن سکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *