سکول کھولتے وقت کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ یہ جون کا مہینہ ہے قیامت ڈھادینے والی گرمی، بچے بےہوش ہونے لگ گئے،ناک سے خون بہنے لگاسکولوں میں صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) تعلیمی ادارے دوبارہ کھول تو دیے گئے ہیں لیکن

کسی کو یہ خیال نہیں رہا کہ سال کے اس مہینے میں کس قدر قیامتخیزگرمی پڑتی ہے۔ یہ بات سبھی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ہر سال جون شروع ہوتے ہی تعلیمی اداروں میں چھٹیاں دے دی جاتی تھی۔اس کی وجہ تھی موسم گرما کا

اپنے عروج پر پہنچ جانا اور سورج کا پوری آب و تاب کے ساتھ چمکنا۔ ملک بھر میں اس وقت سورج آگ برسا رہا ہےجس سے سکول کی کلاسز میں بیٹھے کئی کئی درجن بچوں کا گرمی سے برا حال ہے۔ کئی بچے بے ہوش آجاتے ہیںجبکہ

کئی کی ناک سے خون بہنے لگتا ہے۔ ایسے موسم میں بچوں کو پانی کی بھی بار بار طلب ہوتی ہے لیکن کلاسوں کے دوران پانی پینے کےلئے جانےکی اجازت بھی کم ہی ملتیہے۔ چھٹی کے وقت سورج سوا نیزے پر ہوتا ہے اور کئی بچے تپتی دوپہروں میں بھاری بھرکم بیگ اٹھائے

بمشکل چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ بچوں کا اتنے طویل وقت کیلئے کلاسز میں بیٹھنا بھی مشکل ہوگیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ بھی ہورہی ہے، جبکہ جن سکولوں میں سیکنڈ فلور پر کلاس رومز ہیں وہاں تو بہت زیادہ گرمی ہوتی ہے۔جون کا ابھی پہلا ہفتہ جاری ہے لیکن

گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہوتا جار ہا ہے۔بتایاگیا ہے کہ گورنمنٹ جونیئر ماڈل سکول ماڈل ٹاؤن میں 2 بچوں کی حالت غیر ہوگئی ہے۔ بچوں کے ناک سے خون بہنے لگا، جس پر اساتذہ نے ان بچوں کے سروں پر فوری ٹھنڈا پانی ڈالا اور

ان کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی۔ اساتذہ نے محکمہ تعلیم پنجاب سے مطالبہ کیا کہ کلاسز کے اوقات کار میں مزید کمی کی جائے، تاکہ بچے صبح کے اوقات میں ہی کلاسز پڑھ کر واپس گھروں کو جاسکے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *