تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کردیا گیا

جون میں گرمی کی شدت اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے

کئی ماہ کی بندش کے بعد اسی مہینے سکول کھول دیے تھے تاہم شدید گرم موسم کی وجہ سے سکولوں میں حاضر ہونے والے طلبا کی حالت غیر ہونا شروع ہو گئی۔ چھوٹے بچوں کو نکسیر اوربے ہوشی جیسے مسائل کا سامنا ہو رہا ہے جس کی وجہ سے

پرائیویٹسکول مالکان اب محتاط ہوگئے ہیں اورانھوںنے از خود ہی سکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اسلام آباد کے نواحی علاقوں میں کئی پرائیویٹ سکولز مالکان نے پیر سے سکولوںکو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ان میں عائشہ ایجوکیشن سسٹم، شاہین پبلک سکول، فاطمہ پبلک سکول، فیصل ماڈل سکول،

لٹل اینجلز،دی گارڈینز سکو ل اورشہزاد پبلک سکول شامل ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان سکولوں میںداخل کئی بچوں نے طبیعت خرابی جیسے مسائل کے بعد سکول آنا چھوڑدیا تھا جس کی دیکھا دیکھی کئی دوسرے بچوں میں بھی خوف کی فضا پھیل گئی تھی۔ڈیوٹی کی مد میں وصولیوں کا ہدف 785 ارب،

انکم ٹیکس وصولیوں کے لیے گروتھ کا ہدف 22 فیصد اور سیلز ٹیکس وصولیوں میں گروتھ کا ہدف 30 فیصد رکھا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں گروتھ کا ہدف 29 فیصد رکھا جائے گا، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں گروتھ کا ہدف 12.1 فیصد

مقرر کرنے، اشیا پر سیلز ٹیکس کی مد میں 2 ہزار 503 ارب 39 کروڑ وصول کرنے کا ہدف مقرر کرنے اور سروسز پر سیلز ٹیکس وصولیوں کا ہدف 2 ارب 61 کروڑ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔یہ خبر بھی گردش کر تھی کہ حکومت نے پینشنرز پر ٹیکس عائد کرنے کی آئی ایم ایف کی تجویز

مان لی ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے تمام پنشنرز پر ساڑھے 7 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا کہا گیا تھا۔ وفاقی حکومت پنشنرز کو سالانہ کی مد میں 250 ارب روپے کی ادائیگی کرتا ہے۔حکومت کو پینشن پر 7.5 فیصد ٹیکس عائد کرنے سے 18 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *