’ لمبی کالز کو بھول جائیں‘ حکومت نے 3منٹ سے زائد کالز پر ٹیکس لگادیا

پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے نئے بجٹ میں 3 منٹ سے زائد جاری رہنے والی کالز پر

ٹیکس عائد کردیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ نئے بجٹ میں حکومت کی طرف سے 3 منٹ سے زائد جاری رہنے والی فون کالز پرفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی جا رہی ہے ، ناصرف یہ بلکہ اس کے علاوہ انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال اور ایس ایم ایس پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کردیگئی۔وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے

بجٹ تقریر میں کہاکہ فی کس آمدنی میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے، کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ کی جا رہی ہے، وفاقی سرکاری ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف فراہم کیا جائے گا، تمام پنشنرز کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا، اردلی الاؤنس 14 ہزار روپے سے بڑھا کر ساڑھے 17 ہزار روپے کیا جا رہا ہے انہوں نے دعوی کیا کہ کورونا وائرس کی وباءکے باوجود

فی کس آمدنی میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے ، اسی طرح اس سال ایکسپورٹ میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔ملک میں ٹیکسوں کی وصولی 4 ہزار ارب کی نفسیاتی حد عبور کر چکی ہے، ٹیکس وصولیوں میں 18 فیصد بہتری آئی ہے اسی طرح ٹیکس ری فنڈ کی ادائیگی میں 75 فیصد اضافہ کیا ہے، اس سال ایکسپورٹ میں شاندار نمو دیکھنے میں آئی. انہوں نے بتایاکہ

ترسیلاتِ زر میں 25 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، روپے کی قدر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح میں 17 فیصد سے ایک فیصد تک کمی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2018ءمیں ایک بہت برا چیلنج تھا اس پر قابو پالیا گیا ہے اوورسیز پاکستانیوں نے کھاتوں میں بہتریلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہو گیا ہے بیرونِ ملک

سے ترسیلات میں اضافہ عمران خان کی قیادت پر اعتماد ہے ٹیلی مواصلات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 17فیصد سے 16 فیصد کمی کی تجویز ہے ، بیرونِ ملک سے ترسیلات میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے گزشتہ سال کے مقابلے میں خام تیل کی قیمت میں 180 فیصد اضافہ ہواچینی کی سطح پر بین الاقوامی سطح پر 56 فیصد اضافہ ہوا، ملکی سطح پر

چینی کی قیمت میں 18 فیصد اضافہ ہوا اگلے سال کیلئے معاشی ترقی کا ہدف 4.8 رکھا ہے۔شوکت ترین نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت مشکل فیصلے میں خوفزدہ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے 20 ارب کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو اپریل 2019 کو 800 ملین ڈالر کا سرپلس میں تبدیل کردیا گیا ، اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کی پالیسی اپنائی گئی ، ہم

استحکام سے معاشی نمو کی طرف گامزن ہوئے ہیں ، کورونا کی وجہ سے معاشی نمو میں ایک سال کی تاخیر ہوئی ، پاکستان کو کورونا کی دو لہروں کا مقابلہ کرنا پڑا وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی ترقی کی شرح ہر شعبے میں ریکارڈ کی گئی ہے ، کپاس کے علاوہ

تمام دیگر زرعی اشیا کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جب کہ صنعتی ترقی بھی غیرمعمولی رہی وزیر خزانہ نے کہا کہ بڑے صنعت شعبے میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ماضی میں نمو منفی 10 تھی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *