اسکول کے بچوں کے امتحانات اب کس طرح لیے جائیں گے۔۔ شفقت محمود نے اہم اعلان کر دیا

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ ہم نے

اسکولوں میں آٹھویں کلاس تک کے امتحانات کیلئے کوئی پالیسی نہیں بنائی ہے اور انکے امتحانات لینے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ اسکول انتظامیہ نے کرنا ہے۔ اسی مسئلے پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے شفقت محمودنے کہا کہ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ اسکولوں میں صرف 4 ماہ پڑھائی ہوئی ہے جس کے باعث

ہم نے نصاب 30 فیصد محدود کر دیا ہےاور صرف اختیاری مضامین کے امتحانات لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کی تیاری کیلئے جولائی تک کا وقت بھی دیا ہے تاکہ طلبا پر دباؤ کم ہو ۔اس کے علاوہ انکا کہنا تھا کہ کیمبرج نے او لیول کے امتحانات ہم سے بات چیت کر کے منعقد کیے اور اے ٹو کے 75 فیصد بچوں نے امتحانات دے دیے ہیں اور

اب ہماری کو شش ہے کہ اے ٹو کے بچوں کا خصوصی اجازت کے تحت یونیورسٹیوں میں داخلہ ہو جائے لیکن داخلے کا حتمی فیصلہ انکے نتائج کے بعد ہی کنفرم ہوگا ۔صوبہ بلوچستان میں انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات 22 جون سے شروع ہوں گے۔ اس سے قبل بلوچستان میں انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات 25 مئی سے

شروع ہونا تھے۔نجی ٹی وی دنیا کے مطابق امتحانات میں طلبہ سے صرف اختیاری مضامین کے پرچے لئے جائیں گے، طلبہ کو ان میں حاصل نمبروں کی بنیاد پر لازمی مضامین میں اوسط نمبر دئیے جائیں گے۔چیئرمین بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے کہا کہ

سالانہ انٹرمیڈیٹ امتحانات میں تقریباً اٹھاسی ہزار طلبہ حصہ لیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ امتحانات کے لئے ڈھائی سو سے زیادہ امتحانی مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ طلبہ اردو اور انگریزی لازمی، اسلامیات یا اخلاقیات لازمی اور مطالعہ پاکستان

کا پرچہ نہیں دیں گے۔ تاہم فیل ہونے والے، امپرومنٹ یا مدرسہ کے طلبہ کو لازمی مضامین کے پیپر دینا ضروری ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فیل شدہ یا امپرومنٹ اور مدرسہ کے طلبہ کے پرچے 12 جولائی سے شروع ہوں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.