بجٹ میں سرکاری ملازمین کو لینے کے دینے پڑگئے

وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین سے

ٹیکس وصول کرنے کی تجاویز سامنے آگئیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کیپنشن ، گریجویٹی فنڈز کی ادائیگی پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز ہے ۔ سرکاری ملازمین کی ایل پی آر اور پنشن کی کمیوٹیشن پر بھی ٹیکس چھوٹ ختمکرنے کی تجویز ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کو

خرچے کی واپسی پر چھوٹ ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ 5 لاکھ سے زائد پراویڈنٹ فنڈ پر مارک اپ 10فیصد ٹیکس کی تجویز ہے جبکہ میڈیکل اخراجات واپسی پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ بحریہ سے منسلک ملازمین کی تنخواہوں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز اور اخباری ملازمین کے سفری الاؤنسز ، مفت خوراک اور دوسری اشیاء کی فراہمی پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویزبھی شامل ہے۔دوسری جانب

بلاول بھٹو زرداری نے تنخواہ دار طبقے پر 150 ارب روپے کا انکم ٹیکس لگانے کے آئی ایم ایف کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ 2021 میں عوام کی جیبوں سے پیسہ نکال کر مخصوص سرمایہ داروں کو ایمنسٹی دی گئی ہے۔پیپلزپارٹی کے چیئرمینبلاول بھٹو نے کہا ہے کہ غریب کی معاشی کمر توڑنے کے لئے

عمران حکومت نے پنشن اور پروویڈنٹ فنڈز تک پر 10 فیصد ٹیکس لگانے کی تیاری کرلی۔ملکی تاریخ کی کرپٹ حکومت نے زیادہ ٹیکس لگا کرعوام کی جیبوں پر اربوں روپے کے ڈاکے کا منصوبہ بنالیا ہے۔فیصد رکھا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں گروتھ کا ہدف 29 فیصد رکھا جائے گا، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں گروتھ کا ہدف 12.1 فیصد مقرر کرنے، اشیا پر سیلز ٹیکس

کی مد میں 2 ہزار 503 ارب 39 کروڑ وصول کرنے کا ہدف مقرر کرنے اور سروسز پر سیلز ٹیکس وصولیوں کا ہدف 2 ارب 61 کروڑ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔یہ خبر بھی گردش کر تھی کہ حکومت نے پینشنرز پر ٹیکس عائد کرنے کی آئی ایم ایف کی تجویز مان لی ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے تمام پنشنرز

پر ساڑھے 7 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا کہا گیا تھا۔ وفاقی حکومت پنشنرز کو سالانہ کی مد میں 250 ارب روپے کی ادائیگی کرتا ہے۔حکومت کو پینشن پر 7.5 فیصد ٹیکس عائد کرنے سے 18 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.