میٹرک اور انٹر میں فیل ہونے والے طلباء کو پاس کرنے کا فیصلہ

(fast news) کراچی
سندھ میں میڑک اور انٹر کے طالب علموں کو

پاس کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم سندھ کی اسٹیرئنگ کمیٹی کی جانب سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔کمیٹی نے پریکٹیکل امتحانات لینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔کوئی طالب علم پریکٹیکل میں فیل ہوا تو پاسنگ مارکس دئیے جائیںگے۔میٹرک اور انٹر میں پریکٹیکل کے امتحانات تھیوری امتحانات کے بعد

لیے جائیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ تعلیم سندھ نے میٹرک اور انٹر میں فیل ہونے کے باوجود طلبا کو پاس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق میٹرک اور انٹر میں فیل ہونے والے طلبا کو پاسنگ مارکس دئیے جائیں گے۔ رواں ماہ سندھ میں میٹرک اور

انٹر امتحانات لینے کے لیے دو تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ پہلی تجویز یہ کی گئی کہ رواں سال اختیاری مضامین کا امتحان لیا جائے۔ جبکہ دوسری تجویز یہ پیش کی گئی کہ امتحانات ایم سی کیوز کی طرز پر لیے جائیں۔ یہ تجاویز محکمہ تعلیم کو ارسال کر دی گئی تھیں۔ یاد رہے کہ 24 مارچ 2021ء کو

محکمہ تعلیم سندھ نے رواں تعلیمی سال کا شیڈول جاری کیا تھا جس کے تحت سندھ میں میٹرک کے امتحانات یکم جولائی سے ہوں گے۔ محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق نرسری سے آٹھویں جماعت کے امتحانات 7 جولائی سے ہوں گے۔ محکمہ تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ

صوبے میں میٹرک کے امتحانات یکم جولائی سے ہوں گے۔ جبکہ صوبے میں انٹر کے امتحانات 28 جولائی سے ہوں گے۔ جس کے بعد اپریل میں وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ 22 اپریل سے صوبے بھر میں تعلیمی عمل بحال ہوجائے گا جبکہ 9 ویں سے 12 ویں جماعت تک

امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ حال ہی میں سندھ میں میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا کیونکہ چیئرمین تعلیمی بورڈز کی جانب سے سندھ حکومت کو خط لکھا گیا ، جس میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت گرانٹ نہیں جاری کر رہی ۔ چیئرمین تعلیمی بورڈز کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ

سندھ حکومت نے تعلیمی بورڈز کو تین ارب سے زائد کی گرانٹ دینی ہے جو کہ ادا نہیں کی جا رہی ، فوری طور پر گرانٹ نہ ملی تو امتحانات کا انعقاد مشکل ہو جائے گا۔ خط میں کہا گیا کہ ادائیگیاں نہ ہونے کے سبب اساتذہ بورڈز کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.