مفتی عزیز الرحمان کی مزید شرمناک ویڈیوز انٹرنیٹ پر وائرل

اپنے شاگرد کے ساتھ سامنے آنے والی ویڈیو پر معروف عالمِ دین مفتی عزیز الرحمان کو

کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کی مزید شرمناک ویڈیوز انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی ہیں، یہ ویڈیو مدرسہ کے دارالافتاء میں بنائی گئی ہیں۔ ایک ویڈیو میں مفتی عزیز الرحمان اخبارات کے مطالعے کے ساتھ ساتھ افسوسناک کام کر رہے ہیں جب کہ دوسری ویڈیو میں انہیں دینی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ویڈیو بنانے والے متاثرہ طالب علم نے ایک

ویڈیو اس طریقے سے ریکارڈ کی ہے کہ دارالافتا کے دروازے پر لگی مفتی عزیزالرحمان کے نام کی تختی بھی واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔جمعیت علماء اسلام ف (جے یو آئی) کے رہنما مفتی عزیز الرحمان کی نامناسب ویڈیو سامنے آنے کے بعدپارٹی رکنیت معطل کردی گئی ہے۔ جے یو آئی لاہور کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ

مفتی عزیز الرحمان کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ان کیخلاف ایکشن لیتے ہوئے انہیں پارٹی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب مفتی عزیز الرحمان نے نامناسب ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اپنے ردعمل دے دیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ میں ڈیڑھ سال قبل مجھے ان ویڈیوز کے بارے میں بتایا گیا کہ اور کہا تھا کہ آپ اپنا ردعمل دے لیکن میں چونکہ پاک دامن تھا اس لیے

کسی ردعمل کے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ میں نے ویڈیوز نہیں دیکھیں تھیں اور نہ ہی ان کے بارے میں کچھ جاننا چاہتا تھا کیونکہ میں پاک دامن تھا لہذا مجھے کسی چیز کا کوئی ڈر نہیں تھا، مفتی کا کہنا تھا کہ مجھے ایک معروف ٹی وی چینل سے ایک صحافی نے ویڈیوز کے بارے میں بتایا اور

مدرسہ چھورنے کی دھمکی لیکن میں نے صاف انکار کر دیا پھر یہ ویڈیوز میرے بیٹے کو دکھائی گئیں لیکن اس نے مجھے نہیں بتایا کیونکہ میں دل کا مریض ہوں لیکن اب یہ معاملہ جب سوشل میڈیا کی زینت بنا تواب میں ان کے بارے میں حقیقت بیان کر سکتا ہوں۔ انکا کہنا تھا کہ میں پچھلے پچیس سالوں سے جامعہ اسلامیہ میں تدریس کر رہا ہوں، اس مدرسے کے مہتم اول مولانا پیر سیف اللہ خالد نقشبندی کا

مجھ پر مکمل اعتماد تھا۔ان کی وفات کے بعد مدرسے کا انتظام ان کے صاحبزوں اسد اللہ فاروق اور خلیل اللہ ابراہیم حوالے کیا گیا،دونوں میرے شاگرد ہیں لیکن بدقسمتی سے دونوں حضرات انتظام سنبھالنے کے بعد روز اول سے مجھ سے انتہائی طور پر خائف تھے کہ کہیں مفتی مدرسے پر قبضہ نہ کر لیں۔مفتی عزیز الرحمان کا کہنا تھا میرے پاس عہدے اور علاقے کا اعتمادان کی آنکھوں کو کھٹکتا ہے انہوں نے

میرے خلاف کئی پراپیگنڈے کیے لیکن میں مدرسہ چھوڑنے سے انکار تھا میں حلفا کہتا ہوں کہ گذشتہ چار سال میں ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔گذشتہ رمضان کچھ لوگوں نے مدرسہ کی گرتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور مجھے عملی قدم اٹھانے کا کہا گیا جس کے بعدان لوگوں نے صابر شاہ نامی نوجوان

میرے خلاف استعمال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو اڑھائی سال پرانی ہے،حلفاَََ کہتا ہوں کہ اپنے ہوش و حواس میں ایسی کوئی غلیظ حرکت نہیں کی یہ ویڈیو بنانے سے قبل مجھے چائے میں کوئی نشہ آور چیز ملا کر پلائی گئی جس کے بعد میں اپنے ہوش میں نہیں رہا اس کے بعد یہ ویڈیو بنائی گئی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.