گاڑی سستی اور خوراک مہنگی ، نامور تاجر رہنما نے سوال کھڑا کر دیا

اسلام آباد تاجر رہنما اوراسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ گاڑیاں اور موبائل مہنگی کرنے کی پالیسی سمجھ سے بالا تر

ہے, اعلانات سے زرعی شعبہ ترقی نہیں کرے گا, اس کے لئے ٹھوس پالیسیوں کی ضرورت ہے ورنہ درامدات پروغیرہ سستا کر کے اشیائے خورو و نوشانحصار بڑھتا جائے گا اور کھانے پینے کی اشیاءکی قیمت انکا درامدی بل اورتجارتی خسارہ بڑھتا چلا جائے گا, سال رواں کے ابتدائی گیارہ ماہ ساڑھے ساتارب ڈالر سے زیادہ کی

یائے خورد و نوش درامد کی گئی ہیں جس میں گندم چینی کپاس دالیں پام آئل چائے، دودھ اور اسکی مصنوعات شامل ہیں جبکہ سال کے اختتام تک کپاس کا درامد بل کم از کم دو ارب ڈالر ہو گا, جس سے مجموعی زرعی درامدات ساڑھے نو ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی جو ہماری برامدات کا چالیس فیصد ہو گا۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ کئی دہائیوں سے نام و نمود کی خاطر غیرضروری میگا پراجیکٹس کی خاطر زراعت کو قربان کرنے کی پالیسی ختم کی جائ

۔زرعی شعبہ میں سب سے زیادہ پانی ضائع کرنے والی شوگر ملز کے فائدے کے لئے کپاس کی فصل کو قربانی کا بکرا بنانے کا سلسلہ جاری ہے جوملک کے سب سے بڑے صنعتی و برامدی شعبے ٹیکسٹائل سیکٹر کے وجود کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ گنے کی فصل سب سے زیادہ پانی ضائع کر رہی ہے اور کپاس کے زیر کاشت رقبہ کو ہڑپ کر رہی ہے جو زرعی معیشت کے لئے نقصان دہ ہے جبکہ ایک صوبائی حکومت زراعت سے متعلق اداروں کو بند کر رہی ہے

جسکا نوٹس لے کر ان اداروں کو بحال کیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ گندم کی اچھی فصل کے دعووں کے باوجود ایک ارب ڈالر کی تیس لاکھ ٹن گندم بھی درامد کی جائے گا جو حیران کن ہے۔ ہر سال کی طرح تین لاکھ ٹن تک گندم سمگل کر دی جائے گا

۔انھوں نے کہا کہ گاڑیاں اور موبائل وغیرہ سستا کر کے اشیائے خورو و نوش مہنگی کرنے کی پالیسی سمجھ سے بالا تر ہے۔عوام موبائل نہیں روٹی کھاتے ہیں۔ بجٹ اقدامات کے نتیجے میں آٹا، چینی، دودھ اور دیگر ڈیری پراڈکٹس مہنگی ہو نے سے عوام پر اربوں روپے کا بوجھ پڑے گاجس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.