سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضا فے کی تجویز کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد فنانس بل 2021 میں تجاویز کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرنے کیلئے

ایوان بالائ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاسچیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی نے کسٹم کلکٹر کو اختیارات دینے کے حوالے سے بل میںشامل تجویز کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کسٹم کلکٹر کسی بھی معاملہ پر سوموٹو یا پھر سپریمکورٹ تفویض اختیارات استعمال کرسکتا ہے

۔کمیٹی نے معاملہ ایک روز تک کیلئے مؤخر کردیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمدطلحہ محمود کے سی پیک منصوبے سے متعلق معاملے پر سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ نے کمیٹی کو بتایا کہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کیلئے چین نے اپنی کمپنیوں کو قائل کرنا تھا۔

ابھی تک کوئی بھی چینی کمپنی سرمایہ کاری کیلئے نہیں آئی۔خصوصی اقتصادی زونز میں پلانٹ اور مشینری ڈیوٹی فری درآمد کی جاسکتی ہے۔زونز انٹرپرائزز اور ڈویلپرز کو 10 سال کی انکم ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سپیشل ٹیکنالوجی زون میں خام مال اور مشینری کی درآمد ڈیوٹی فری کی جاسکتی ہے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان سینیٹ کی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

سینیٹر شیری رحمان نے پیٹرولیم مصنوعات پر ممکنہ 20 روپے لیٹر پیٹرولیم لیوی واپس لینے کا مطالبہ کیااور کہا کہ پارلیمنٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران متوازی منی بجٹ آرہا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے جس سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ فلور ملز انڈسٹری پر ٹیکس سے 20 کلو آٹے کا تھیلا 97 روپے مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔

قائمہ کمیٹی نے چھوٹی گاڑیوں پر لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کر دی۔سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ 20 سال تک پرانی گاڑیوں پر 30 ہزار ٹوکن ٹیکس ناانصافی ہے۔دو سے ڈھائی ہزار روپے کے بجائے 30 ہزار روپے ایڈوانس ٹیکس لیا جارہا ہے۔کمیٹی نے وفاقی حکومت سے چھوٹی گاڑیوں پر لائف ٹائم ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کر دی۔سینیٹر ذیشان خانزادہ نے بھی کمیٹی اجلاس میں تجاویز پیش کیں اور کہا کہ سی اے کی سروسز پر صوبائی ٹیکس ہوتے ہیں

۔سندھ میں سروسز پر ٹیکسز 13 فیصد، پنجاب میں 5 فیصد، کے پی کے میں 2 فیصد اور بلوچستان میں 15فیصد ہے جبکہ اسلام آباد میں سی اے سروسز پر ٹیکس 16 فیصد ہے جس کو 5 فیصد ہونا چاہئے۔ قائمہ کمیٹی نے جسے منظور کر لیا۔سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہاکہ خامتیل پر سیلز ٹیکس پر استثنی کو بحال کیا جائے۔خام تیل پر سیلز ٹیکس 17 فیصد کے بجائے 8-10 فیصد کیا جائے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے خام تیل پر سیلز ٹیکس لگانے پر سوال اٹھا تے ہوئے کہا کہ اگر پہلے 0 فیصد تھا تو اب 17 فیصد سیلز ٹیکس کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئیں۔ قائمہ کمیٹی نے خام تیل پر 17 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز کی مخالفت کردی ۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے فاٹا،پاٹا کیلئے خصوصی طریقہ کار پر ایف بی آر کو بریفنگ کیلئے طلب کرلیا

۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی نے کاسمیٹکس پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں کمی کی تجویز پیش کر دی۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کاسمیٹکس پر ڈیوٹیز کم کرنے کی بجائے لوکل صنعت کو فروغ دیا جائے۔حج و عمرہ ٹریول ایسوسی ایشن کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.