سرکاری ملازمین کی موجیں تین گنا تنخواہیں مل گئیں

اسلام آباد(Fastnews)
محکمہ خزانہ کا بجٹ میں

ڈیوٹی دینے والے ملازمین میں اعزاز یہ کی تقسیم کا غیر مساوی طریقہ، محکمہ خزانہ کے کسی ملازم کو تین بنیادی تنخواہیں کسی کو دو اور کسی کو ایک بنیادی تنخواہ بطور اعزاز یہ دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ خزانہ نے بجٹ میںڈیوٹی دینے والے ملازمین کو تنخواہ

بطور اعزازیہ یکسانیت کی بجائے پک اینڈ چوز کی بنیاد پر تقسیم کردی گئی ہے۔ زیادہ کام کرنے والے ملازمین کو صرف ایک بنیادی تنخواہ بطور اعزاز یہ مل سکی جبکہ کہی چھوٹے ملازمین کم اعزاز یہ ملنے کی وجہ سے منہ دیکھتے رہ گئے۔ محکمہ خزانہ نے اس سال بجٹ کا اعزاز یہ کی تقسیم میں غیر امتیازی سلوک روا رکھا ہے۔لاکھ سے اٹھارہ لاکھ روپے

سالانہ تنخواہ پر دس فیصد ٹیکس دینا ہو گا اور اس سلیب کے تنخواہ داروں کو تیس ہزار روپے سالانہ رقم جمع کروانا ہو گی ۔اٹھارہ سے پچیس لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر 15 فیصد ٹیکس دینا ہو گا، اس سلیب کے تنخواداروں کو 90 ہزار روپے سالانہ رقم جمع کروانا ہو گی۔ پچیس لاکھ سے پینتیس لاکھ روپے تک کے تنخواہ داروں پر 17 فیصد ٹیکس

لاگو ہو گا، اس سلیب کے تنخواہ داروں کو ایک لاکھ 95 ہزار روپے کی رقم جمع کروانا ہو گی۔35 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک کی سالانہ تنخواہ پر 17.5 فیصد ٹیکس لاگو ہو گا اور اس سلیب کے تنخواہ داروں کو سالانہ تین لاکھ 95 ہزار روپے سالانہ دینا ہوں گے۔اسی لاکھ روپے سے ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کی سالانہ تنخواہ پر 25 فیصد ٹیکس ہو گا اور ان

تنخواہ داروں کو سالانہ 13 لاکھ 45 ہزار روپے دینا ہوں گے۔ ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد تنخواہ پر 27.5 فیصد ٹیکس ہو گا اور ان تنخواہ داروں کو 23 لاکھ 45 ہزار روپے سالانہ جمع کروانا ہوں گے۔ تین تا پانچ کروڑ سالانہ تنخواہ پر 30 فیصد ٹیکس دینا ہو گا جبکہ سالانہ 72 لاکھ 95 ہزار روپے سالانہ

جمع کروانا ہوں گے۔ دستاویزات میں مزید کہا گیا کہ پانچ کروڑ سے ساڑھے سات کروڑ روپے سالانہ سے زیادہ تنخواہ پر 32.5 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا جبکہ ایک کروڑ 32 لاکھ 95 ہزار روپے بھی سالانہ جمع کروانا ہوں گے۔ دستاویزات کے مطابق یہ سیلری ٹیکس ریٹ مالی سال 22-2021ء تک لاگو رہے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *