پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کینسر کے خوفناک مرض سے نجات حاصل کرنے کا انتہائی سستہ نسخہ بتا دیا ، پڑھ کر شیئر بھی کیجیے

یہ ایک نہائت مفید اور سچا واقعہ ہے جو میرے ایک دوست نے مجھے بھیجا ہے اس کی دلچسپی اور اہمیت کی خاطر اس واقعہ

کو میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ، زندگی بھر بیمار نہ ہونے کا راز آپ کو بتانے جا رہا ہوں پچھلے دنوں ایک فلم کی سلیکشن کے لئے میرافلج ملا جانا ہوا- نامور پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے

ایک کالم میں لکھتے ہیں ———–جو شارجہ سے بذریعہ املقین فجیرا جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے- یہاں اونٹ فارمنگ کے ساتھ بہت وسیع ریس کورس بھی ہے- ہے تو گائوں لیکن جدید سہولتوں سے آراستہ ہے- ہم گیارہ بجے

پہنچے تو گائیڈ سے ریس کورس کا راستہ پوچھ کے اس کے ساتھ ہو لئے، راستے میں ایک قدیم مسجد دیکھنے کو ملی اور اس کے ساتھ ہی چائے کی کینٹین جس کے باہر بینچ پر کئی عربی بیٹھے چائے پی رہے تھے- ان میں ایک

کافی بوڑھا شخص بھی تھا جو شکل سے بلوچ لگتا تھا- میں علم کی تلاش میں سرگرداں، خود سے شرط باندھی کہ اس بوڑھے کے ساتھ چائے نہ پی تو نام رہے اللہ کا- اسٹاف کو دور بٹھایا اور چائے لے کر ان کے پاس

جا کر سلام کیا تو اندازہ درست نکلا، وہ بلوچ ہی تھے- اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو انہوں نے پاس بٹھا لیا اور پھر میرے اصرار پر اُونٹوں کے بارے میں نہایت مفید اور

تفصیلی معلومات فراہم کیں جس کا ذکر پھر کبھی کروں گا لیکن ایک دلچسپ بات کہے بنا نہیں رہ سکتا کہ نسلی اونٹ میں انا کا بڑا مسئلہ ہوتا ہے- خیر بات ختم کرتے وقت میں نے اپنی عمر بتائی اور ان کی پوچھی ت

و معلوم ہوا 95برس کے ہیں اور ان کیوالدہ کا انتقال 105برس کی عمر میں ہوا تھا- کہنے لگے تم تو میرے مقابلے میں ابھی جوان ہو- میں نے بات کو پلٹتے ہوئے اور ذرا ہچکچاہٹ سے پوچھا کہ اچھی صحت کا راز تو

بتائیں- کہنے لگے بس بیمار نہ پڑو- میں نے کہا یہ تو ہمارے بس کی بات نہیں- ہنستے ہوئے کہنے لگے بہت آرام سے ہمارے بس کی بات ہے- میں نے کہا آپ بتائیں میں ضرور عمل کرونگا- میرے قریب آکر آہستہ سے کہنے

لگے مُنہ میں کبھی کوئی چیز بسم اللہ کے بغیر نہیں ڈالنا چاہئے، پانی کا قطرہ ہو یا چنے کا دانہ- میں خاموش سا ہوگیا- پھر کہنے لگے اللہ نے کوئی چیز بے مقصد اور بلاوجہ نہیں بنائی، ہر چیز میں ایک حکمت ہے اور اس میں

فائدے اور نقصان دونوں پوشیدہ ہیں- جب ہم کوئی بھی چیز بسم اللہ پڑھ کر مُنہ میں ڈالتے ہیں تو اللہ اس میں سے نقصان نکال دیتا ہے- ہمیشہ بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ، پیو اور دل میں بار بار خالق کا شکر ادا کرتے رہو

اور جب ختم کرلو تو بھی ہاتھ اُٹھا کر شکر کرو کبھی بیمار نہ پڑو گے- میری آنکھیں تر ہو چکی تھیں ہمارے بعض مولوی حضرات اور عالموں سے یہ کتنا بڑا عالم تھا- دیر ہو

رہی تھی میں سلام کرکے اُٹھنے لگا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے، کھانے کے حوالے سے آخری بات بھی سنتے جاؤ- میں ’’جی‘‘ کہہ کر پھر بیٹھ گیا- کہنے لگے اگر ساتھ بیٹھ کر کھا رہے ہو- تو کبھی بھول کے بھی

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.