جاوید چوہدری نے وارننگ جاری کردی

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہم زندگی میں لوگوں سے نفرت کرتے ہیں‘ہمارا لوگوں کے ساتھ مقابلہ بھی ہوتا ہے‘ یہ ایک قدرتی عمل ہے‘ انسان ایک ایسا جانور ہے جسے ہر لمحہ دشمن چاہیے ہوتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے ہمارے مخالف اکثر اوقات

ہماری بقا بن جاتے ہیں‘تحریک انصاف اس وقت تین قسم کے لوگوں میں بٹی ہوئی ہے‘ پی ٹی آئی کے پرانے اور جینوئن ورکرز‘ یہ لوگ شروع دن سے پارٹی کے ساتھ ہیں‘ یہ ماضی میں ملک کی سڑکوں اور گلیوں میں

مار کھاتا تھا اور یہ آج اقتدار کی گلیوں میں اپنی پارٹی سے کوڑے کھا رہا ہے لیکن یہ لوگ ا س کے باوجود آج پارٹی کی تصویر کے کسی بھی ڈاٹ میں شامل نہیں ہیں لہٰذا ان کے دل دکھی اور جذبات زخمی ہیں‘ دوسرے لوگ ان پارٹیوں کا جلا ہوا سالن ہیں جن کو

عمران خان روز ملک کی تباہی کا ذمے دار قرار دیتے ہیں‘ حکومت کی ساٹھ فیصد کابینہ آج ان لوگوں پر مشتمل ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو کل تک عمران خان کو معمولی کھلاڑی‘ تانگہ پارٹی اور فیس بک لیڈر کہتے تھے اور عمران خان انھیں اپنا چپڑاسی رکھنے کے لیے تیار

نہیں تھے‘ آپ جس دن تحقیق کریں گے آپ کو آج کے ہر سیاسی فساد کے پیچھے یہ لوگ ملیں گے۔یہ اپنی پرانی پارٹیوں سے شرمندہ بھی ہیں اور اپنے ماضی کے اسیر بھی ہیں چناں چہ یہ نہیں چاہتے عمران خان کبھی آصف علی زرداری‘ میاں شہباز شریف یا

مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بیٹھیں‘ آپ خود سوچیے عمران خان جس دن بلاول بھٹو یا آصف علی زرداری سے ملاقات کے لیے جائیں گے تو وہ فواد چوہدری جو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے پولیٹیکل افیئرز اور انفارمیشن کے معاون خصوصی تھے‘ وہ شاہ محمود قریشی جو آصف علی زرداریکو اپنا

لیڈر اور بلاول بھٹو کو جناب چیئرمین کہتے تھے‘ وہ فہمیدہ مرزا جو آصف علی زرداری کی بہن ہوتی تھیں‘ وہ فخر امام جن کی اہلیہ عابدہ حسین محترمہ بے نظیر بھٹو کے ٹرک میں سوار ہوتی تھیں اور جن کے مشورے پر محترمہ نے بلاول کے ساتھ زرداری اور بھٹو دونوں لگائے تھے۔وہ بابر اعوان جنھوں نے اپنا وکالتی

لائسنس داؤپر لگا لیا تھا لیکن آصف علی زرداری کے خلاف سوئس کورٹ کو خط نہیں لکھا تھااور وہ اعظم سواتی جو مولانا فضل الرحمن کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے تھے اور یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں وفاقی وزیر تھے اور اسی طرح جب عمران خان اور شبہاز

شریف اکٹھے بیٹھیں گے تو عمر ایوب سمیت وہ تمام لوگ جو شریف برادران کو قائد محترم‘ فخر پاکستان اور شیر پنجاب کہا کرتے تھے وہ ایک دوسرے اور اپنی پرانی پارٹیوں کے قائدین سے کیسے آنکھیں ملائیں گے؟لہٰذا ان کی بقا اسی میں ہے یہ وزیراعظم

کو اپوزیشن اور اپوزیشن کو وزیراعظم کے قریب نہ آنے دیں اور یہ آج تک اس میں کام یاب ہیں‘ میں آج دعوے سے کہتا ہوں یہ ملک اگر خدانخواستہ ٹوٹ بھی گیا تو بھی یہ لوگ عمران خان کو اپوزیشن کے ساتھ نہیں بیٹھنے دیں گے اور تیسرے لوگ چھاتہ

بردار ہیں‘ یہ کمال لوگ ہیں‘ یہ ہر پارٹی کو نصیب ہو جاتے ہیں‘یہ یورپ‘ امریکا‘ کینیڈا اور عرب ملکوں کے باسی ہوتے ہیں‘ یہ جب وہاں کوئی کمال نہیں کر پاتے تو یہ مختلف سیاسی قائدین کے خدمت گزاربن جاتے ہیں’’کر ٹسی کال‘‘ کے قابل نہیں سمجھ رہا اور اس نازک وقت میں ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے؟

حکومت کو میڈیا‘ عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے لڑایا جا رہا ہے‘اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ورکنگ ریلیشن تک موجود نہیں‘ یہ ایک دوسرے کی شکل تک نہیں دیکھتی اور اس عالم میں اگر ادارے بھی لڑ پڑے تو پھر کیا ہوگا؟ آپ خود سمجھ دار ہیں اور اس کا کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہو گا‘

آپ خودفیصلہ کر لیجیے۔میں 1992میں صحافت میں آیا تھا‘ میں نے اس دوران 12حکومتوں کی رعونت دیکھی اور پھراس رعونت کو خزاں کے پتوں کی طرح بکھرتے بھی دیکھا لیکن آپ یقین کریں میں جتنا ان لوگوں کو خدا کے لہجے میں بولتا ہوا دیکھ رہا ہوں اتنا غرورمیں نے آج تک کسی حکومت میں نہیں دیکھا تھا‘

پرفارمنس دیکھیں تو انسان سر پکڑ لیتا ہے۔دعوے سنیں تو ہنسی نکل جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں یہ لوگ جب تخت سے اتریں گے تو اس وقت ان کی انا‘ تکبر اور رعونت لوگوں کا سامناکیسے کرے گی؟ اور یہ لوگ جب جائیں گے تو ملک اس وقت کہاں ہو گا؟اللہ تعالیٰ اس ملک پر رحم کرے لیکن آپ یقین کریں ہم

بڑی تیزی سے کسی بڑے حادثے کی طرف بڑھ رہے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ قدرت انسانوں اور قوموں کے سارے جرائم معاف کر دیتی ہے لیکن یہ تکبر معاف نہیں کرتی اور پورا ملک اس وقت اکڑی ہوئی گردنوں کے درمیان فٹ بال بنا ہوا ہے‘قدرت آخر یہ میچ کب تک برداشت کرے گی؟ کبھی تو سیٹی بجنی ہے اور کبھی تو کراؤڈ نے حدیں پھلانگ کر میدان میں آنا ہے‘ ذرا تصور کیجیے اس وقت کیا ہوگا؟

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.