”عید سے قبل سرکاری ملازمین کی موجیں، چھ ماہ کی تنخواہ بطور اعزازیہ دینے کا اعلان“

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے بجٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو6 تنخواہوں کے برابر اعزازیہ ادا کردیا گیا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی تاریخ میں پہلی بار جن ملازمین نے بجٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے انہیں 6 ماہ کی تنخواہوں کے برابر اعزازیہ دیا گیا ہے ، اسکے علاوہ مجموعی طور پر ملازمین کو 3 ، 4 اور 6 تنخواہوں کے برابر اعزازیہ دیا گیا ہے ، یہ اعزازیہ ملازمین کو ان کی بنیادی تنخواہ پر ادا کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں

وزیراعظم عمران خان نے ایف بی آر کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 21-2020ء کے دوران ایف بی آرنے 4 ہزار 732 ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ریونیو اکٹھا کیا جو کہ 4 ہزار 691 ارب روپے کے ہدف سے زیادہ ٹیکس ہے ، یہ ٹیکس ہدف گزشتہ سال کی نسبت 18 فیصد

زیادہ ہے ، ٹیکس اہداف اس بات کا ثبوت ہیں معیشت مضبوط بنیادوں پراستوار ہے۔یاد رہے کہ ایف بی آر نے مالی سال 2020 کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کر لیا، ایف بی آر نے گزشتہ سال کےمقابلے میں 700 ارب روپے سے زائد اکٹھے کر لیے اور مالی سال کے اختتام پر کل محصولات کا حجم 4700 ارب

سے تجاوز کر گیا جب کہ گزشتہ سال ایف بی آر نے 3997 ارب روپے اکٹھے کیے ، تاہم 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال تک ایف بی آر 4725 ارب روپے اکٹھے کرنے میں کامیاب رہا، یوں ایک سال کے دوران ٹیکس محصولات میں 18 عشاریہ 2 فیصد اضافہ ہوا جب کہ ٹیکس محصولات میں ریکارڈ اضافے کے علاوہ

ترسیلات زر اور ایکسپورٹس کے حجم میں بھی اضافے کا امکان ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 11 جون کو قومی اسمبلی میں اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف نے اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کیا ، وفاقی حکومت کی جانب سے

نئے مالی سال کے بجٹ میں جہاں عوام کو ریلیف دیا گیا وہیں 383 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز بھی عائد کیے گئے جن میں سے 70 فیصد ایسے رجعت پسند ٹیکسز شامل ہیں جن کے نتیجے میں مہنگائی کے بڑھنے کے خدشات بھی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.