پانچ دس نہ 15مرغی کے گھوشت کی قیمت میں ریکارڈ کمی ہو گئی۔۔فی کلو کتنے کا ہو گیا

پانچ دس نہ 15مرغی کے گھوشت کی قیمت میں

ریکارڈ کمی ہو گئی۔۔فی کلوکتنے کا ہو گیا،لاہور..برائلر مرغی کے گوشت کے ریٹ میں 16
روپے فی کلوکمی کردی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق برائلر مرغی کا گوشت245 روپے سے کم کر کے 229 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے،زندہ مرغی کا ہول سیل ریٹ 150 اور

پرچون ریٹ 158 روپے فی کلو مقرر، فارمی انڈوں کا 158 روپے فی درجن سرکاری نرخ نامہ جاری انڈوں کی پیٹی کا ریٹ 4620روپے مقرر کیا گیا ہے۔پانچ دس نہ 15مرغی کے گھوشت کی قیمت میں ریکارڈ کمی ہو گئی۔۔فی کلو کتنے کا ہو گیا،)برائلر مرغی کے گوشت کے ریٹ میں 16 روپے فی کلو

کمی کردی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق برائلر مرغی کا گوشت 245 روپے سے کم کر کے 229 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے،زندہ مرغی کا ہول سیل ریٹ 150 اور پرچون ریٹ 158 روپے فی کلو مقرر، فارمی انڈوں کا 158 روپے فی درجن سرکاری نرخ نامہ جاری انڈوں کی پیٹی کا ریٹ 4620 روپے مقرر کیا گیا ہے۔جائیں جس سے

عوام انفرادی طور پراس مسئلے کو سمجھیں اور پانی کے تحفظ کی پوری کوشش کر سکیں۔پاکستانی عوام کو صورتحال سے اچھی طرح آگاہ کیا جانا چاہئے ، تاکہ وہ ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ گیلن پانی کی بچت کرسکیں۔مزید برآں، ماہرین نے ملک میں پانی کی قلت پر قابو پانے اور اس کے بے دریغ استعمال کو

روکنے کیلئے نیشنل واٹرپالیسی کے مطابق واٹر ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی ضرورت پر زور دییتے ہوئے کہا کہ ہم تربیلا ڈیم جیسے پانچ بڑے ڈیمز جتنا پانی ضائع کر رہے ہیں اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک کو فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ بھی درپیش ہوسکتا ہے۔ہمیں بحیثیت قوم کچھ کرنے کی ضرورت ہے، موقع کی نزاکت کو سمجھنا

نہایت ضروری ہے اور ہمیں چاہیے کہ انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کریں، ایسا نہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے ہم خود اپنی روزمرہ زندگی میں پانی کو احتیاط سے استعمال کرکے کچھ بہتری لاسکتے ہیں۔میڈیا کو بھی چاہیے کہ پانی کے بحران کے حوالے سے آگاہی اور شعور فراہم کریں، اس لئے ضروری ہے کہ

پانی کے بحران کے حوالے سے نیوز چینلز اور اخبارات میں اشتہارات چلائے جائیں تاکہ عوام کو بنیادی آگاہی اور شعور ان کے گھر میں میسر ہو، ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ہمیں انفرادی طور پر اقدامات اٹھانے ہونگے

حکومتی پالیسیوں کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھنا ہمیں زیب نہیں دیتا کیونکہ، کہیں یہ نہ ہو کہ کل ہمارے پاس ضرورت کے لیے بھی پانی دستیاب نہ ہو اور اسوقت جو ہمارے پاس رہ جائے گا وہ ہوگا پچھتاوا۔ (تحریر، مودّہ نجم الدّین)

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.