زندگی میں یہ تین عمل کر لو قبر میں جاتے ہی اللہ فرشتوں سے کہیں گے!

قبر میں انسان کو ڈالا جائے گا کافر کو بھی منافق کو بھی مسلمان کو بھی

پہلا سوال ہوگا من ربکَ ما دینُکَ من نبیکَ مومن تینوں کے جواب دے گا فرشتے پوچھیں گے آپ کو جواب کیسے آئے ؟وہ کہے گا قَرَات ُ القرآن میں نے قرآن پڑھا میں نے اس کے مطابق عمل کیا میں نے اس کی تصدیق کی تو اللہ نے مجھے جواب سکھا دیئےاتنی بات ہوتی ہے آسمان سے آواز آتی ہے میرے بندے نے سچ کہا ہے

اس کا بہت پیارا گھر تھا چھوٹی سی قبر میں اس کوڈال کر چلے گئے ہیں اومیرے فرشتو! جہاں تک نظر جاتی ہے اس کی قبر بھی کھول دو اور ایک جنت کا دروازہ بھی کھول دو جنت کی فضائیں یہ ہوائیں اور خوشبوئیں اس کے پاس پہنچیں گی اس میرے بندے کو تین چادروں میں لٹا کر چلے گئے اس کے پاس تو

بہت مال تھا یہ حلال کھانے والا تھا میرے فرشتے اس کو جنتی لباس پہنا دو یہ نیچے بھی بچھا کر کچھ نہیں گئے کیونکہ یہ حدیث پر عمل کرنے والے ہیں نیچے بچھانے کے بارے میں کوئی حدیث نہیں ہے سوائے اللہ کے رسول ﷺ کے کسی کے نیچے کچھ نہیں بچایا گیا وہ چٹائی اس لئے بچائی گئی کہ یہ اللہ کے رسول ﷺ اس پر بیٹھا کرتے تھے کہ کوئی اور

بیٹھے گاتو یہ ٹھیک نہیں ہے اس لئے یہ کچی زمین پر لٹا کر گئے ہیں پختہ قبر بنانے کی بھی انہوں نے حدیث پڑھی ہے کہ یہ ناجائز ہے اللہ کے رسولﷺ کےفرمان کے مطابق قبروں کو پختہ بنانا بھی منع اس کے اوپر بلڈنگ بنانا بھی منع اس پر کتبے لکھ کر لگانا بھی منع اور ان کی بے حرمتی کرنا اور ان کو روندنا بھی منع میرے فرشتو !کچی زمین پر لٹا ہے نہیں جلدی سے اس کے نیچے جنت کے بچھونے

بچھا دو۔حدیث پاک میں آتا ہے: قبر میں میت کے پاس ایک بڑی خوبصورت شخصیت، روشن چہرے اور قیمتی لباس والی ‘ جس سے بڑی عمدہ خوشبو آ رہی ہوتی ہے‘ آتی ہے۔ وہ کہتی ہے:خوش ہو جاؤ! تمہارے لئے خوش خبری ہے۔ مرنے ولا پوچھتا ہے: تم کو ن ہو؟ وہ کہتا ہے: میں تمہارا نیک عمل ہوں۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ فرشتے اس سے سوال کرتے ہیں :تیرا رب کون ہے ؟،

مسلمان مومن اس کے جواب میں کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔ دوسرا سوال ہوتا ہے:تمہارا دین کونسا ہے؟، وہ جواب میں کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ اب منکر ونکیر کی جانب سے تیسرا سوال ہوتا ہے:تمہارا نبی کون ہے؟ تو وہ اس کے جواب میں کہتا ہے: میرے نبی محمدہیں۔ فرشتہ یہ جواب سننے کے بعد کہتا ہے: تم نے سچ کہا۔ پھر فرشتہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزت اور مہمان نوازی

کی خوشخبری سناتا ہے۔ اس کیلئے جنت اور جہنم دونوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اسے جہنم کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے: یہ تمہارا ٹھکانہ ہونا تھا اگر تم نے اللہ کی نا فرمانی کی ہوتی۔ جب مسلمان جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھتا ہے تو پکار اٹھتا ہے: اللہ! جلد از جلد قیامت کو برپا کر دے تاکہ میں جنت کی نعمتیں جلد از جلد حاصل کر سکوں۔مؤمن کیلئے اس کی قبر کو تا حد نگاہ وسیع کر دی جاتی ہے اور

قیامت تک کیلئے اسے میٹھی اور پیاری نیند سلا دیا جاتا ہے۔حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں:صدقہ جاریہ نفع بخش علم اور نیک اولاد فوت شدہ والدین کیلئے دعا کرتے ہیں۔ انسان کا فوت ہونے کے بعد دنیا سے رشتہ ختم ہوجاتا ہے مگر اس کاجاری رہنے والا عمل اس کا پیچھا کرتا ہے۔چاہے وہ نیک عمل ہوں یا برا عمل ۔ آدمی نے مسجد بنوائی ہے، خواہ چھوٹی سی مسجد ہی

کیوں نہ ہو۔ اپنے وسائل اور حالات کے مطابق ہی آدمی مسجد بنواتا ہے۔ حدیث شریف کے مطابق چاہے اس نے گھونسلے کے برابر ہی مسجد بنوائی ہو
‘ بس اس کی نیت خالصتاً اللہ کی رضا ہو۔ مسجد صرف اور صرف اللہ کیلئے بنائی ہو۔ اس کا اجر و ثواب بہت بڑا ہے۔ اللہ رب العزت اس کیلئے جنت میں گھر بنادیتا ہے۔ ایک شخص ہے۔ وہ تنہا تو مسجد بنانے کی طاقت نہیں

رکھتالیکن مسجد بن رہی ہے‘ اس نے اپنی توفیق اور وسعت کے مطابق اپنا حصہ ڈال دیا۔ وہ ہزار روپیہ دے سکتا ہے۔ اس سے بھی کم دے‘ کوئی حرج نہیں مگر وہ دے ضرور۔ مسجد میں روشنی نہیں‘ بلب فیوز ہو گئے ہیں۔ بڑی معمولی سی بات ہے۔آپ نے مسجد کے ناکارہ بلب تبدیل کر کے نئے لگوا دیے ہیں۔ اس میں ٹیوبیں لگوا دی ہیں۔ مسجد کو روشن کر دیا۔ مسجد میں پانی کا بندوبست نہیں۔ نمازیوں کو وضو کا مسئلہ بنا رہتا ہے۔ آپ نے پہل کر کے مسجد میں

موٹر لگوا دی۔ دیکھا جائے تو یہ بڑا معمولی کام نظر آتا ہے مگر ساتھیو! کسی نیکی کو حقیر مت جانئے۔ مسجد کی دیکھ بھال کرنا، اس کی صفائی ستھرائی میں حصہ لینا بہت زیادہ نیکی کا کام ہے۔ آپ اپنی اولاد کو بھی ایسے کام کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔ مسجد بن گئی ہے۔ آپ نے بھی اپنی توفیق کے مطابق اس میں حصہ ڈال دیا ہے۔ اب یہ مسجد آپ کیلئے بھی صدقہ جاریہ ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد آپ کی وفات ہوچکی ہے۔ آپ کی وفات کے بعد بھی یہ مسجد آباد ہے،لوگ نمازیں پڑھ رہے ہیں۔ یقین جانئے کہ جب تک لوگ نمازیں پڑھتے رہیں گے آپ کو ا جر و ثواب ملتا رہے گا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.