میں نے اپنا شوہر بھی قربان کر دیا اور اب میرا بیٹا بھی وطن پر شہید ہو گیا۔۔۔ جانیے لیفٹینٹ ناصر شہید اور ان کی ماں کی رلا دینے والی کہانی

ویسے تو کئی ایسے جوان ہیں جو کہ شہادت کے رتبے

پر پہنچ چکے ہیں اور گھر والوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے، لیکن آج ایک ایسے جانباز شہید کی بات کریں گے جس کے والد بھی شہید ہو چکے ہیں اور اب خود بیٹا بھی جام شہادت نوش کر چکا ہے۔ لیفٹینینٹ ناصر خالد پاکستان آرمی کے ان باصلاحیتجوانوں میں شامل تھے جنہیں رائل ملٹری اکیڈمی میں

تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل پایا تھا، ان کی بہترین کارکردگی کی بدولت پاکستان ملٹری اکیڈمی نے انہیں رائل ملٹری اکیڈمی کے لیے نامزد کیا تھا۔ اور جب گریجوئیٹ ہوئے تو بہترین فارن گریجوئیٹ کا خطاب اپنے نام کیا۔ 23 سالہ شہید ناصر خالد نے پاکستان ملٹری اکیڈمی سے 137 لانگ کورس مکمل کیا تھا، نارتھ وزیرستان میں

ایک آئی ای ڈی بلاسٹ کے نتیجے میں یہ جوان شہادت کے رتبے تک پہنچ گیا تھا، جواں سال شہادت نے پاکستان بھر میں ناصر خالد کی شہادت کی خبر نے افسردہ کر دیا تھا۔ لیفٹننٹ ناصر خالد کی والدہ جن کے شوہر بھی شہید ہو گئے اب بیٹے کی شہادت نے انہیں جذباتی تو کر دیا ہے مگر حوصلہ پست

نہیں ہو سکا ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں شہید ناصر خالد کی والدہ کا کہنا تھا کہ جب میرے شوہر پولیس میں تھے اور ان پر دیوار کر گئی تھی جس کی وجہ سے وہ شہید ہو گئے تھے، اس وقت میں 24 سال کی تھی اور بچے بھی چھوٹے تھے، اس وقت ناصر کی عمر ساڑھے تین سال تھی جبکہ بھائی بہنوں کی عمر بھی ڈھائی سال، نو ماہ کے قریب تھی۔ جس وقت

میرےشوہر کا انتقال ہوا اس وقت مجھے پریشانی تھی کہ اب کیا ہوگا ہمارا، مگر میں نے اپنے اللہ پر بھروسہ کیا۔ 2005 کے زلزلے نے جہاں ہر جگہ تباہی مچا دی تھی وہیں میرا بچہ بھی گم ہو گیا تھا مگر میری کسی نیکی کی وجہ سے مجھےے میرا بیٹا واپس مل گیا تھا، پھر ہم پنڈی میرے ابو کے گھر چلے گئے۔ ناصر کے اندر

اللہ نے ایسی صلاحیت دی تھی کہ میں کبھی کبھی سوچتی تھی کہ یہ عام بچوں جیسا نہیں ہے۔ ناصر کے والد کے بعد ناصر کو سب سے زیادہ لگاؤ اپنے دادا سے تھا، چونکہ دادا بھی پاک آرمی میں تھے تو ناصر کو بھی آرمی میں جانے کا شوق تھا۔ ناصر کی والدہ کا کہنا تھا کہ ناصر جب بھی پاک آرمی کے ٹیسٹ کے لیے جاتے تھے میں ان کے

ساتھ جاتی تھی، میں باہر بیٹھ کر سورہ یٰسین پڑھتی تھی اور میرا بیٹا اندر ٹیسٹ دیتا تھا۔ ناصر کہتا تھا کہ امی بہت ٹائم اداسی میں گزار دیا اب اللہ ہمیں اچھا وقت دے گا۔ گجراںوالہ میں جب ناصر کی سیلیکشن ہوئی تو میں ناصر کو چھوڑنے کے لیے گئی، وہ

میری آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ مجھے ناصر کی آنکھوں میں آنسوں دکھائی دے رہے تھے۔ ناصر کی والدہ کہتی ہیں کہ میرے بیٹے نے اس ملک کی خاطر اپنی جان کا نظرانہ پیش کر دیا ہے، مجھے فخر ہے کہ ناصر میرا بیٹا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.