400آٹھ سو نہ 1200چینی کی بوری کتنی سستی ہوگئی ،عوام کے لیے بڑی خوشخبری آگئی

پاکستان میں کرشنگ سیزن کا آغاز ہونے کے بعد چینی کی قیمت میں واضح کمی

آنا شروع ہوگئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق ہول سیل مارکیٹ میں چینی کی بوری 1500 روپے سستی ہوگئی ہے۔ جوڑیا بازار کے ڈیلرز کا کہنا ہے کہ چینی کی بوری 9500 روپے سے کم ہو کر آٹھ ہزار روپے کی ہوگئی ہے۔ خیال رہے کہ چینی کی بوری 100 کلو کی ہوتی ہے اس حساب سےفی کلو چینی کا ہول سیل ریٹ 80 روپے

ہوگیا ہے۔ جبکہ پرچون میں چینی 92 روپے کی مل رہی ہے۔ دوسری جانب بینکاک عالمی شہرت یافتہ خواجہ سرا نایاب علی نے ہیرو ایشیا ایوارڈ بھی اپنے نام کر لیا۔نایاب علی کو ہیرو ایشیا ایوارڈ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے حقوق کے لیے خدمات انجام دینے پر دیا گیا، ایوارڈ دینے کی تقریب تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں

منعقد ہوئی۔ایوارڈ کے لیے انڈیا، بنگلا دیش، نیپال، انڈونیشیا، فلپائن اور بھوٹان سمیت تمام ایشیائی ممالک سے 250 ٹرانس جینڈر افراد کو نامزد کیا گیا تاہم یہ ایوارڈ پاکستانی خواجہ سرا نایاب علی کے حصہ میں آیا۔نایاب علی کورنا وبا کے پیش نظر بنکاک نہ جا سکیں، تقریب میں نایاب علی کا ویڈیو پیغام بھی نشر کیا گیا۔اس موقع پر

نایاب علی کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ ہم نے ایشیا کا سب سے اہم ٹائٹل جیتا ہے۔ان کاکہنا تھا کہ خواجہ سرا کمیونٹی کی وکالت کرنے پر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس پر میں خود کو بہت غیر محفوظ محسوس کر رہی تھی اور بہت زیادہ افسردہ تھی لیکن اسی دوران اتنے بڑے اعزاز نے مجھے اپنی کمیونٹی کے لیے مزید کام کرنے کی ہمت دی ہے تاکہ معاشرے کو اپنی کمیونٹی کے افراد کے لیے محفوظ

بنا سکوں۔نایاب علی کا کہنا تھا کہ یہ ایوارڈ اس بات کی امید ہے کہ ایک دن ہمیں بھی برابر حقوق ملیں گے اور ہم دنیا کو تبدیل کریں گے۔نایاب علی اس سے پہلے رواں سال فروری میں آئرلینڈ حکومت اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مشترکہ انٹرنشینل گالاز ایوارڈ بھی جیت چکی ہیں، انہیں یہ ایوارڈ آئر لینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں دیا گیا تھا۔ہے وہ کوئی بھی

کاروباری شخصیت اس بانڈ کو کیش کروانے سے قبل ہی کئی لاکھ روپے اضافی قیمت پر خرید لیتی ہے اور یوں ان کا کالا دھن سفید ہوجاتا ہے۔یہ تو بھلا ہو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا جس نے حکومت کو پاکستان کے مالیاتی نظام میں موجود اس نقص کو درست کرنے کے لیے اقدامات کرنے پر مجبور کیا اور وزارتِ خزانہ کے ماتحت قومی بچت

ڈائریکٹریٹ نے 25 ہزار اور 40 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز بتدریج واپس لینے کا عمل شروع کیا اور اب پہلے مرحلے میں 40 ہزار روپے مالیت کے بانڈز کو رجسٹر کروالیا ہے۔جو بھی اب اس مالیت کے پرائز بانڈ لینے کا خواہش مند ہوگا اس کو اپنے شاختی کارڈ کی کاپی، بینک اکاؤنٹ کی بنیادی تفصیل اور

ٹیکس سرٹیفکیٹ فراہم کرنا ہوگا۔ اس وقت صرف 40 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز ہی سرمایہ کاری کے لیے دستیاب ہیں۔اس رجسٹریشن سے یہ پرائز بانڈز بغیر ملکیت کے نہیں رہے ہیں اور اگر ان پرائز بانڈز پر کوئی انعام نکل بھی آئے گا تو یہ انعام حاصل کرنے کا حق اسی فرد کا ہوگا

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.