تعلیمی ادارے دو ہفتوں کیلئے بند، کاروبار بند، ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی لگا دی گئی

کرونا کیسز میں اضافے کے باعث

آزاد کشمیر کے تعلیمی ادارے 15 اگست تک بند رکھنے کا فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیرمیں کورونا کیسز کی شرح میں مسلسل اور تشویش ناک اضافے کے بعد سخت اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں تعلیمی ادارےمزید 2 ہفتے کیلئے

بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آزاد کشمیر کے تعلیمی ادارے اب 15 اگست تک بند رہیں گے، جبکہ تعلیمی اداروں کی بندش کے علاوہدیگر سخت پابندیاں بھی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پیر کے روز وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ

پریس بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی وسربراہ این سی او سی اسد عمر نے کہا کہ کورونا مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، لوگوں کی صحت کے ساتھ روزگار کا خیال بھی ہماری ذمہ داری ہے، ہمیں احساس ہے کہ بندشوں سے عام آدمی پر بہت اثر پڑتا ہے، اس حوالے سے وزیراعظم کی منظوری

سے کچھ فیصلے کئے ہیں۔ان فیصلوں پر اطلاق 3 اگست سے 31 اگست تک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کئی لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے تین مرحلوں میں لاک ڈاؤن کیوں کرتے ہیں ، پہلی دفعہ میں ہی مکمل لاک ڈاؤن کیوں نہیںکرتی ، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ

ہمیں اپنے ملک کے ایک بہت بڑے دیہاڑی دار طبقے کے روزگار کا تحفظ بھی کرنا ہے، اس لیے ہم بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے ابتدائی تین لہروں میں جس حکمت عملی پر عمل کر کے کامیابی سے دفاع کیا ہے تو اسی کو دیکھتے ہوئے ہم نے کچھ فیصلے کئے ہیں اور اگر آپ

وباء کے پھیلاؤ کو دیکھیں تو پچھلے ایک ہفتے میں بہت تیزی سے اضافہ ہوتا ہوا نظر آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مثبت کیسز کی تعداد اور شرح میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ

جن شہروں میں پابندیوں کا اطلاق ہو گا ان میں صوبہ پنجاب میں راولپنڈی، لاہور اور فیصل آباد شامل ہیں، خیبر پختونخوا میں پشاور اور ایبٹ آباد، صوبہ سندھ میں کراچی اور حیدرآباد میں 8 تاریخ تک پابندیوں کا اطلاق ہو گا۔اسد عمر نے کہا کہ کہ اگر مثبت کیسز کی شرح

.برقرار رہتی ہے تو کراچی اور حیدرآباد میں 8 تاریخ کے بعد بھی یہ پابندیاں لاگو رہیں گی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ اسلام آباد کیساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں میرپور اور گلگت بلتستان میں گلگت اور اسکردو میں بھی ان پابندیوں کا اطلاق ہو گا۔انہوں نے کہا کہ

ان پابندیوں کا آغاز 3 اگست سے ہو گا اور یہ 31 اگست تک نافذ رہیں گی جبکہ ہفتے میں ایک دن کے بجائے اب دو دن چھٹی ہو گی جنہیں ‘سیف ڈیز’ کا نام دیا گیا ہے البتہ اس بات کا اختیار صوبے کو ہو گا کہ وہ کن دو دنوں میں چھٹی کریں گے۔اسد عمر نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مارکیٹ

کے اوقات کار رات 10 بجے سے کم کر کے 8 بجے تک کردیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ویکسینیشن کرانے والے افراد کو ان ڈور ڈائننگ کی اجازت دی تھی لیکن بدقسمتی سے اس کا اطلاق بالکل بھی نہیں ہو رہا اور اس پر عملدرآمد میں کمزوریاں سامنے آئی ہیں جبکہ انتظامیہ بھی یہ کہہ رہی تھی کہ

ہر ریسٹورنٹ میں جا کر دیکھنا ممکن نہیں کہ صرف ویکسینیشن والوں کو آنے دیا جا رہا ہے یا نہیں، اس لئے ان ڈور ڈائننگ کو بند کیا جا رہا ہے البتہ باہر بیٹھ کر کھانا کھایا جا سکتا ہے لیکن اس کا وقت بھی 12 بجے سے کم کر کے 10 بجے تک کیا جا رہا ہے جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی 24 گھنٹے

اجازت ہے۔انہوں نے کہا کہ شادیوں پر بھی یہی قانون لاگو کیا گیا تھا کہ اگر آپ کی ویکسینیشن ہو چکی ہے تو آپ شادی میں جا سکتے ہیں لیکن اس پابندی پر بھی اطلاق نہیں کیا گیا لہٰذا 400 لوگوں سے زائد افراد کو شادی میں بلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔دفاتر پر

پابندیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ پہلے یہ کہا گیا کہ 50فیصد افراد کو آنے کی اجازت ہو گی اور بقیہ عملہ گھر سے کام کریگا، اب کیسز میں اضافے کو دیکھتے ہوئے وہی پالیسی دوبارہ سے لاگو کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ 70فیصد گنجائش کے ساتھ چلانے کی اجازت میں کمی کرتے ہوئے اسے 50 فیصد کیا جا رہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.