”نو دس محرم کا روزہ رکھ کر“

حرم الحرام کا مہینہ قابلِ احترام اور عظمت والا مہینہ ہے،اس میں

دس محرم الحرام کے روزے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے ،رمضان کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں کے روزوں میں محرم کی دسویں تاریخ کے روزے کا ثواب سب سے زیادہ ہے، اور اس ایک روزے کی وجہ سے گزرے ہوئے ایک سال کے گناہِ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں، اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ

رکھنا بھی مستحب ہے، اور یومِ عاشورہ کے علاوہ اس پورے مہینے میں بھی روزے رکھنے کی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے، اور آپ ﷺ نے ماہِ محرم میں روزہ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :افضل ترین روزے رمضان کے بعد ماہ محرم کے ہیں، اور

فرض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔’’[عن أبي هريرة:] سُئلَ: أيُّ الصلاةِ أفضلُ بعد المكتوبةِ؟ وأيُّ الصيامِ أفضلُ بعد شهرِ رمضانَ؟ فقال ” أفضلُ الصلاةِ، بعد الصلاةِ المكتوبةِ، الصلاةُ في جوفِ الليل ِ. وأفضلُ الصيامِ، بعد شهرِ رمضانَ، صيامُ شهرِ اللهِ المُحرَّمِ “. مسلم (٢٦١ هـ)، صحيح مسلم ١١٦٣ • صحيح •‘‘.اسی طرح عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ

آپ ﷺ نے فرمایا : جو شخص یومِ عرفہ کا روزہ رکھے گا تو اس کے دو سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور جو شخص محرم کے مہینہ میں ایک روزہ رکھے گا، اس کو ہر روزہ کے بدلہ میں تیس روزوں کا ثواب ملے گا۔لڑکا اپنے باپ کا منہ تکنے لگا تو وہ

یہودی بولا میرا منہ کیا تکتا ہے ابو القاسم محمد ابن عبداللہﷺ جو کہتے ہیں کرلو لڑکا بولا یا رسول اللہﷺمیرے پاس تو کچھ بھی نہیں آپﷺ نے فرمایا بس تم کلم پڑھو میں جانو اور جنت جانے تم میرے ہوجاؤ جنت بھی تو میری ہے جنت میں لے جانا یہ میرا کام ہے لڑکے نے کمہ پڑھا جب اس کے منہ نکلا محمد رسول اللہ روح باہر نکل گئی کلمے کا نور

اندر چلا گیا آنکھیں بند ہوئیں لب خاموش ہوئے اس لڑکے کاباپ وہ یہودی بولا اس لیے یہ لڑکا اب میرا نہیں رہا اب یہ اسلام کی مقدس امانت ہے کاشانہ اے نبوت ﷺ سے اس کا جنازہ اٹھے تب ہی اس کی عزت ہے لے جاؤ اس کو پھر آپﷺ نے فرمایا صدیق اٹھاؤ عمر اٹھاؤ عثمان آگے بڑھو بلال آؤ تو سہی علی چلو دو کندھا سب اٹھاؤ اسے آقا جب یہودی کے گھر سے نکلے تو یہ فرماتے جارہے تھے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.