پاکستانیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

بین الاقوامی پروازیں، پاکستان کیلئے مثبت خبر، انتظار کی گھڑیاں ختم، پاکستانیوں میں خوشی کی لہر

دوڑ گئیسول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اسکردو ہوائی اڈے کو ‘انٹرنیشنل ایئرپورٹ’ کا درجہ دیا جارہا ہے جس کے بعد عالمی پروازوں کی آمد ہوگی۔تفصیلات کے مطابق اسکردو ایئرپورٹ کے حوالے سے ڈائریکٹر ایئر ٹرانسپورٹ نے ایوی ایشن ڈویثرن کو مراسلہ جاری کردیا۔ سی اے اے کا کہنا ہے کہ اسکردو ہوائی اڈے کوانٹرنیشنل ایئرپورٹ کا درجہ دیا جارہا ہے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ

اس اقدام کی بدولت عالمی پروازوں کی آمد سے سیاحت کو فروغ اور زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا، اسکردو میں صرف ڈومیسٹک پروازوں کے لیے ایئرپورٹ موجود ہے۔سی اے اے نے بتایا کہ اسکردو کو پاکستان میں عالمی پروازوں کے روٹس سے جوڑنا ہے۔اس ضمن میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ اسکردو ایئرپورٹ معاہدوں کے تحت نامزد غیر ملکی ائیرلائنز کے لیے دستیاب ہوسکتا ہے۔دُبئی

جو پاکستانی روزگار کی غرض سے امارات میں مقیم ہیں، اور مقامی بینکوں سے کریڈٹ کارڈز یا پرسنل لون حاصل کرتے ہیں، اگر انہیں قسطوں یا کریڈٹ کارڈ کی مسلسل عدم ادائیگی کی وجہ سے ڈ-یفال-ٹر قرار دیا گیا ہے تو ایسی صورت میں وہ وطن واپس نہیں جاسکتے، انہیں ایئر پورٹ پر ہی روک لیا جائے گا۔البتہ جو پاکستانی وطن واپس جا چکے ہوں اور

بعدمیں انہیں ڈ-یفا-لٹر قرار دیا جائے تو جب تک وہ اپنے واجبات ادا نہیں کریں گے ، انہیں امارات میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ خلیج ٹائمز کے مطابق امارات میں بینک کی جانب سے قرضہ اور کریڈٹ کارڈز دیتے وقت ہر شخص سے بطور ضمانت چیک رکھوائے جاتے ہیں۔ کسی شخص کی جانب سے بینک کے قرضے کی چھ اقساط

جمع نہ کرانے اور کریڈٹ کارڈ بل کی مسلسل تین اقساط جمع نہ کرانے پر اسے نادہندہ قرار ددے دیا جاتا ہے، جس کے بعد بینک اس کا رکھوایا گیا چیک کیش کروانے کی کوشش کرتا ہے، اگر اس شخص کا دیا گیا چیک باؤنس ہو جائے تو پھر اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہو جاتی ہے اور اس کے امارات سے

باہر جانے پرپابندی لگا دی جاتی ہے۔ ضمانتی چیک کی رقم دو لاکھ درہم سے کم ہونے کی صورت میں 2ہزار درہم سے 10 ہزار درہم کے درمیان جرمانہ ہوتا ہے۔ جرمانے کی رقم ادا کرنے کے بعد امارات سے باہر سفر کرنے پر عائد پابندی ختم ہو جاتی ہے۔ اماراتی قوانین کے مطابق بینک کا چیک ڈس آنر ہونے کی صورت میں

جیل یا جرمانے کی سزا بھُگتنا ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص امارات سے باہر چلا جاتا ہے اور بعد میں اسے قسطوں یا کریڈٹ کارڈز کے بل کی عدم ادائیگی پر ڈی-فال-ٹر قرار دیا جاتا ہے تواس کی امارات واپسی تبھی ممکن ہو سکتی ہے، اگر وہ واجب الادا رقم ادا کر دے، یا بینک سے رابطہ کر کے سیٹلمنٹ کروا کے مخصوص رقم جمع کروا دے۔ورنہ بینک کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کر کے نادہندہ کے امارات واپس آنے پر پابندہ لگوائی جا سکتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.