طالبان نے عام معافی کا اعلان کر دیا، بڑی شرط بھی عائد کر دی گئی

کابل … افغان طالبان کے ترجما ن سہیل شاہین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ

اسلامی امارات افغانستان کے دروازے ان تمام افراد کیلئے کھلےہیں جنہوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ہے،پہلے بھی معافی دی، ایک بار پھر دعوت دیتے ہیں کہ آئیں اورقوم و ملک کی خدمت کریں۔ترجما ن سہیل شاہین کاکہنا تھا کہ اسلامی امارات افغانستان کے دروازے کرپٹ کابل

انتظامیہ کے ساتھ کھڑے افراد کیلئے بھی کھلے ہیں۔واضح رہے کہ طالبان نے کئی اہم افغانشہروں پر قبضے کے بعد افغانستان کے دارالحکومت کابل کا گھیراو شروع کر دیا، افغان حکومت کا کنٹرول صرف کابل تک محدود ہو گیا، جلال آباد بھی طالبان کے قبضے میں چلا گیا۔ افغان طالبان کے ترجما ن سہیل شاہین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ

اسلامی امارات افغانستان کے دروازے ان تمام افراد کیلئے کھلے ہیں جنہوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ہے۔ہدایت کی ہے ۔طالبان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کابل کو ’طاقت کے ذریعے‘ لینے کا ارادہ نہیں رکھتے کیونکہ اس طرح افغانستان کے دارالحکومت میں فائرنگ کی گونج سنائی دے گی ۔ ویب سائٹ نے کہا کہ

تین افغان آفیشل نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جنگجو دارالحکومت کے کالکان ، قرا باغ اور پغمان اضلاع میں تھے مگر انہوں نے دارالحکومت پر اس طرح چڑھائی نہیں کی ۔ افغان طالبان نے اپنے جنگجوئوں کو نئی ہدایات جاری کردی ہیں اور کہا ہے کہ کابل کا کنٹرول طاقت کے ذریعے لینے کا کوئی ارادہ نہیں اور

اپنے جنگجوئو ں کو ہدایت کی ہے کہ ” کابل کے دروازوں پر رہیں، اقتدار کی منتقلی تک شہر میں داخل نہ ہوں، افغان حکومت کابل کی سیکیورٹی کی ذمہ دار ہے”۔دی گارجین کے مطابق طالبان ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ ” ہم نہیں چاہتے کہ

کنٹرول حاصل کرنے کے دوران ایک بھی معصوم افغان شہری زخمی ہویا مارا جائے لیکن ہم نے ابھی سیز فائر کا اعلان نہیں کیا”۔ یاد رہے کہ افغان وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ کابل کے تمام اطراف سے طالبان داخل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.