پاکستان افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے گایا نہیں؟ دوٹوک اعلان کر دیا گیا

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ

طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ عالمی رائے عامہ اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے ،ہمارا افغانستان میں کوئی فیورٹ نہیں، افغانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خودکرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ افغان مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل ہو۔ان کاکہنا تھاکہ

بھارت بھی خطے کی بہتری کیلئے منفی کردار سے گریز کرے۔وزیرخارجہ کا کہنا تھاکہ کابل میں سفارت خانہ کام کررہاہے ، کوئی پاکستانی پھنسا ہوا ہے تو واپس لانے کیلئے سہولت فراہم کریں گے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ عالمی رائے عامہ اور زمینی

حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے ،ہمارا افغانستان میں کوئی فیورٹ نہیں، افغانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خودکرنا ہے۔میں نے خونریزی کو روکنے کیلئے ملک سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔اشرف غنی کا کہنا تھاکہ طالبان نے تلوار اور بندوق کے زور پر فیصلہ لیا ہے لیکن

اب وہ اپنے ہم وطنوں کی عزت اور جائیداد کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ خیال رہے کہ طالبان کی جانب سے کابل کے گھیراؤکے بعد افغان صدر اشرف غنی اور نائب صدر امراللہ صالح افغانستان چھوڑ کرچلے گئے تھے۔برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے تاجک میڈیا کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ

اشرف غنی نائب صدر امراللہ صالح کے ہمراہ کابل سے تاجکستان چلے گئے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں افراد تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ہیں اور ان کے وہاں سے کسی تیسرے ملک روانہ ہونےکا امکان ہے۔افغان صدر

کے فرار کے بعد افغان وزارت داخلہ نے کچھ بھی بتانے سے انکار کیا تھا تاہم افغانستان کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے ان کے فرار کی تصدیق کی تھی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.