سرکاری ہو یا غیر سرکاری سب کو 20 ہزار ملازمین کیلئے خوشخبری، نوٹیفیکیشن جاری

وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں کم سے کم اجرت 20ہزارروپے ماہانہ ادائیگی کانوٹیفکیشن جاری

کردیاگیا۔ملک میں رائج کم سے کم اجرت کے قانون 1961کے ترمیمی آرڈیننس 1980کے آرٹیکل 2کے تحت روزانہ 8گھنٹے فرائض سرانجام دینے والے عارضی ،ڈیلی ویجز اورکنٹریکٹ ملازمین کو20ہزار روپے ماہانہ اداکرنالازمی قراردیاگیاہے ۔دریں اثنابلوچستان لیبرفیڈریشن کے صدر

خان زمان چیئرمین بشیر احمد سیکرٹریجنرل قاسم خان عبدالمعروف آزاد حاجی ،عزیز شاہوانی ،عابد بٹ نورالدین بگٹی محمد عمرسمیت دیگرمزدور رہنمائوں نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ صوبے کے تمام اداروں اورصنعتی کارکنوں کے لیے کم سے کم اجرت بیس ہزار روپے اجرت اداکرنے کانوٹیفکیشن جاریجاری کیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا

کہ 2010 میں بنایا جانے والا ایکٹ خاص طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنایا گیا تھا جبکہ ایکٹ سے فائدہ حاصل کرنیوالے ملازمین سابقہ پوزیشن پر واپس جائیں گے کیونکہ ایکٹ 2010 کے ذریعے مستقل ملازمین کی حق تلفی کی گئی۔سپریم کورٹ نے بحالی کے بعد ہونے والی یکمشت ادائیگیاں واپس لینے کا بھی حکم دیا اور کہا کہ

ترقی پانے والے ملازمین کو عہدوں کے برعکس فوائد واپس نہ لیے جائیں۔عدالت عظمیٰ کی جانب سے واضح کیا کہ ریٹائرڈ ملازمین پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.