ترکی،پاکستان یا سعودی عرب۔؟۔پہلا بڑا اسلامی ملک جس نے طا ل بان کی حکومت کو تسلیم کرلیا، پوری امت مسلمہ کیلئے بڑی سرپرائز

ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ

طالبان کی جانب سے تحمل اور اعتدال پسند بیانات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ترک صدر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جو بھی اقتدار پر فائز ہو، ترکی افغانستان کے ساتھ کھڑا ہو گا۔؎رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ

طالبان رہنماؤں سے ملنے کے لیے تیار ہیں، آنے والےدنوں میں افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور روسی صدر ولادمیر پیوٹن سے بھی بات کریں گے۔طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترکی اب بھی

کابل ائیرپورٹ کی حفاظت کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ 15 اگست کو طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جبکہ

ملک کے صدر اشرف غنی قریبی ساتھیوں سمیت فرار ہو گئے تھے۔کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان کی جانب سے عام معافی کا اعلان کیا گیا تھا اور طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ کسی سے بھی انتقام نہیں لیا جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.