اقبال پارک واقعہ ، اوباش لڑکوں کوسخت سزا ہونے کا امکان

لاہور ( پنجاب حکومت کے ترجمان فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ

گریٹر اقبال پارک میں خاتون ٹک ٹاکر کو بے آبرو کرنے والے ملزمان پردفعہ 354 بھی لگائی گئی ہے جس کی سزا م و ت ہے۔ترجمان حکومت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ گریٹراقبال پارک کے واقعے میں دفعہ 354 لگائیگئی ہےجس کی سزام و ت ہے، واقعے میں

ملوث 350 افراد کو ٹریس کرلیاگیا ہے جب کہ 100 کے قریب افراد کو گرفتارکر لیا گیا ہے۔گرفتار ہونے والوںمیں سے 40 افراد کو کل جیل میں شناخت کریں گی۔ادھر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال کا کہنا ہے کہ

ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کیس کے دیگر ملزموں کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا، آج مزید 60 افراد کی تصاویر نادرا کو بھیجی گئی ہیں، شناخت ہونے پر گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔اسی دوران پولیس نے عائشہ کے ساتھی ریمبو کا بھی میڈیکل کرا لیا ہے۔ عائشہ اور ریمبو کے سامنے کل زیرِ حراست ملزموں کی شناخت پریڈ

کرائی جائے گی۔عائشہ اکرم کے گھر کے باہر پولیس بھی تعینات کردی گئی ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ عائشہ کی اجازت کے بغیر کسی کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عائشہ کا کہنا ہے کہ ان کے والد اور والدہ شدید ذہنی اذیت کی وجہ سے بیمار پڑ گئے ہیں،عائشہ سے پولیس سمیت مختلف اداروں

کی پوچھ گچھ بھی جاری ہے۔دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس واقعے کے تناظر میں انتظامیہ اور پولیس کو الٹی میٹم دیا ہے اور کہا ہے کہ یا تو کام کریں ورنہ اپنا بندوبست کرلیں۔ خیال رہے کہ گرفتار ہونے والے ملزمان کوگزشتہ روز لاہورکی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے

ٹک ٹاکر عائشہ اکرم پر تشدد کے ملزمان کی شناخت پریڈ کرانے کا حکم دے دیا۔پولیس نے40گرفتار افراد کو چہرے ڈھانپ کر جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا اور ان کے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کر لیا.اس موقع پر ملزمان انصاف کی دہائیاں دیتے رہے. ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا، پولیس نے بلاجواز گرفتار کرلیا.بعض نوجوانوں کے والدین

بھی ضلع کچہری پہنچےہوئےتھے انہوں نے کہا کہ ان کے بچے بے گناہ ہیں۔ایک خاندان کا مؤقف تھا کہ یوم آزادی پر ان کا بچہ گھرپر تھاجبکہ بعض فیملیز کا کہنا تھا کہ عائشہ اکرم نے 12اگست کو میسج کرکے نوجوانوں کو14اگست کو مینار پاکستان آنےکا کہا،اس لیے عائشہ کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.