جنرل قمرجاوید باجوہ ایک کھرے اورسچے انسان ہیں برطانوی مسلح افواج کے سربراہ جنرل سرنک کارٹر

اسلام آباد…برطانوی مسلح افواج کے سربراہ جنرل سرنک کارٹرنے کہاہے کہ

جنرلباجوہ ایک کھرے اورسچے انسان ہیں ،جنرلباجوہ پرامن اور معتدل افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں ۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی فوجی سربراہ نے کہاہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہگاہیں نہیں، پاکستان کئی برسوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔ نجی ٹی وی ٹوئنٹی فور کے مطابق

پاکستان پرامن اورمستحکم افغانستان کاحقیقی خواہش مند ہے۔ میزبان صحافی کی طرف سے سوال پوچھا گیا کہ الزامات لگائے جاتے ہیں کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت دہشتگردوں کی..محفوظ پنا ہ گاہیں موجود ہیں جس پر سرنک کارٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے چیلنجز کا سامنا کیا۔ پاکستان میں تین دہائیوں کے دوران 30 لاکھ

سے زائد افغان مہاجرین موجود ہیں۔ ان میں سے کیسے پتہ چلے گا یہ دہشتگرد ہے، پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بہت حقیقی ہے، وہ ایک مستحکم اور معتدل افغانستان چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ برطانوی افواج اس وقت افغانستان میں طالبان کے ساتھ ملکر کام کر رہی ہیں۔ برطانوی فوجی کابل ایئر پورٹ کو سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں اور

شہر کے وسطی حصے کو پرسکون رکھے ہوئے ہیں۔ طالبان ایسے لوگوں کو کچھ نہیں کہہ رہے جو ملک سے نکلنا چاہتے ہیں۔ وہ اس وقت معقول انداز میں پیش آ رہے ہیں۔ قبل ازیں برطانوی آرمی چیف کا کہنا ہے کہ طالبان کا رویہ مختلف ہوسکتا ہے، انہیں ایک موقع دیناہے برطانوی آرمی چیف کے بیان کےبعد نئی بحث چھڑ گئی، جہاں قانون ساز، صحافی اور دیگر افراد کی جانب سے

اعتراض اٹھایا گیا ہے اور آرمی چیف کے اندازے کو غلط قرار دیا جارہا ہے۔برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل سر نک کارٹر نے کہا ہے کہ دنیا کو صبر کے ساتھ یہ دیکھنا ہوگاکہ طالبان کی حکومت میں افغانستان کا مستقبل کیسا ہوگا۔برطانوی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں اْنھوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں صابر رہنا پڑے گا،ہم نے طالبان سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں بہت کچھ سنا ہے۔انہوںنے کہاکہ

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ موجودہ طالبان اْن طالبان سے مختلف ہوں جنھیں ہم 1990 کی دہائی سے جانتے ہیں انہوںنے کہاکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ طالبان زیادہ معقول اور کم رجعت پسند ہوںاور اگر آپ دیکھیں کہ وہ فی الوقت کابل کو کیسے چلا رہے ہیں تو کچھ اشارے موجود ہیں کہ

یہ زیادہ معقول ہیں۔سر نک کارٹر نے کہا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اْنھوں نے گذشتہ 20 سالوں میں ویسے ہی سیکھا ہو جیسے کہ ہم نے گذشتہ 20 سالوں میں سیکھا ہے۔دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کے دفتر نے کہا کہ طالبان کو اْن کے الفاظ سے نہیں بلکہ اقدامات سے پرکھا جائے گا،ہمیں دیکھنا ہوگا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.