افغان فوج کے ایک جنرل کا تہلکہ خیز بیان

افغان فوج کے ایک جنرل کا تہلکہ خیز بیان

لاہور () نامور مضمون نگار اور پاک فوج کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ( ایک افغان جنرل کے مطابق) میں گزشتہ ساڑھے تین ماہ تک تالبان کی یلغار کے خلاف دن رات نان سٹاپ افغانستان کے صوبے ہلمند میں نبرد آزما رہا۔تالبان کی طرف سے ہم

پر پے بہ پے اٹیکس ہوتے رہے لیکن ہم نے نہ صرف ان کو روکا بلکہ تالبان کا بھاری نقصان بھی کیا۔ اس کے بعد مجھے کابل بلا لیا گیا تاکہ افغانستان کی سپیشل فورسز کی کمانڈ کروں۔ لیکن یہ وہ وقت تھا جب تالبان کابل شہر میں داخلہو رہے تھے…… اور تب بہت دیر ہو چکی تھی!میں اب تھک گیا ہوں، بہت مضطرب بھی ہوں اور بہت برہم بھی۔ صدر بائیڈن نے

پچھلے ہفتے ایک بیان میں کہا تھا: ”جس لڑائی میں خود افغان فورسز لڑنے کا حوصلہ نہ رکھیں اس میں امریکن ٹروپس کو نہ تو لڑنا چاہیے، اور نہ ہی جان کا نقصان کروانا چاہیے “۔اس میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ ”افغان آرمی“میں مزید لڑنے کا حوصلہ (Will) باقی نہیں رہا۔ لیکن اس یاس کی ایک وجہ تو وہ

احساس ہے کہ جو افغان قوم محسوس کرتی ہے کہ اس کے امریکی پارٹنر اس کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ اور دوسری وجہ گزشتہ چند ماہ سے مسٹر بائیڈن کا وہ لب و لہجہ ہے کہ جس میں ان کی بے وفائی اور بے توقیری جھلکتی ہے۔ اس صورتِ حال میں افغان آرمی کو بھی الزام سے مبرا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس آرمی

کی اپنی پرابلم ہیں جن میں اقربا پروری اور بیورو کریسی پیش پیشہیں۔ لیکن ہم نے اگر لڑائی سے ہاتھ کھینچا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے پارٹنر ہم سے بھی پہلے یہی کچھ کر چکے تھے۔مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ مسٹر بائیڈن اور ان کے مغربی اتحادی، افغان آرمی پر الزام دھر رہے ہیں کہ

وہ یکدم ڈھیر ہو گئی لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اس سقوط کے پیچھے جو عوامل تھے وہ کیا تھے۔ کابل اور واشنگٹن کے سیاسی اختلافات نےافغان آرمی کا نقصان کیا اور ہماری کارگزاری کی اہلیت کو محدود کر ڈالا۔ وہ

انصرامی سپورٹ جو کئی برسوں سے امریکہ ہمیں فراہم کر رہا تھا اس کے بند ہونے سے ہم گھائل ہو گئے اور امریکی اور افغان لیڈرشپ کی طرف سے رہنمائی کے فقدان نے ہمیں لولا لنگڑا بنا کر رکھ دیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *