انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر جہاز پہاڑ پر دے مارا ۔۔ پاک فضائیہ کے وہ 5 پائلٹ جنہوں عوام کو بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی

قوم کے کئی سپوت ایسے ہوتے ہیں جن کی بہادری پر 7 نسلیں بھی فخر کریں تو انکی بہادری کیلئے یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔آج ہم یہاں پاک فضائیہ کے ان سپوتوں کی بات کریں گے جنہوں نے اپنی جان کی قربانی دے دی مگر قوم کوبڑے حادثے سے بچا لیا۔واضح رہے کہ پوری دنیا میں یہ اصول ہے کہ اگر آپ کے جہاز میں کوئی بھی فنی خرابی ہو جائے تو پائلٹ پیراشوٹ کے زریعے اس سے نیچے چھلانگ لگا دے اور جہاز کی فکر مت کرے مگر ہمارے سپوت ہمیشہ ہی جہاز کو کسی ایسی جگہ دے مارتے ہیں جس سے انکی جان قربان اور لوگوں کی جان بچ جا تی ہے۔

آج ہم یہاں اپنے بہادر سپوت ونگ کمناڈر نعمان کی بات کریں گے جنہوں نے اپنی جان قربان کر دی مگر اسلام آباد کے لوگوں کی جان بچا لی۔ہوا کچھ یوں کہ ونگ کمانڈر نعمان 23 مارچ کی پریڈ کی ریہرسل کر رہے تھے تو انکے جہاز میں آگ لگ گئی مگر انہوں نے پھر بھی اپنا جہاز ایک جنگل میں گرا دیا۔اگر وہ ایسا نہ کرتے تو اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے قریب مارکیٹ میں گر جاتا اور بڑی تباہی ہوتی جس سے ایک آدمی نہ بچتا۔

اپنی شہادت سے کچھ دن پہلے انہوں نے ایک انٹرویو میں یہ کہہ دیا تھا کہ اگر ملک کو میری اور پاک فضائیہ کی ضرورت پڑی تو ہم قربانی سے دریغ نہیں کریں گبے۔ونگ کمانڈر نعمان ایک بہت ہی اچھے لڑاکا طیارہ اڑانے والے پائلٹ تھے، انکا جہاز کسی فنی خرابی کے باعث ہوا خراب اور انہوں نے بس اسٹاپ کو بچاتے بچاتے اپنا جہاز ایک پہاڑ پر دے مارا۔یہ ہماری قوم کا وہ سپوت ہے جس کا جگر کے ٹو پہاڑ کی چوٹی سے بھی بہت زیادہ بلند ہے۔ انکا جہاز بھی مین کراچی شہر میں پرواز کے دوران خراب ہوا اور یہ شہر کو بچاتے بچاتے شہر کے مضافاتی علاقوں میں آگئے اور وہاں انکا جہاز تباہ ہو گیا ۔ اگر وہ یہ کام نہ کرتے تو آج بھی ہم اس ہولناک واقعے کو یاد کر کے رو رہے ہوتے۔

صرف یہی نہیں اس سے بھی بڑا کام انکے والد نے کیا کہ بیٹے کی شہادت کے بعد اپنے سارے ریٹائرڈ آرمی افسران کی پینشنز جمع کی اور راشد آباد کے نام سے ایک نئے شہر کی بنیاد رکھ دی یہ شہر ٹنڈو آدم کے قریب واقع ہے جس میں زندگی کی ہر سہولت موجود ہے۔یہ وہ پائلٹ ہیں جنہوں نے 6 ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ میں دشمن کے دانت کھٹے کر د یے تھے۔لیکن جب وہ ہلوارا کی فضائوں میں دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے تو اس وقت انکے جہاز کو دشمنوں کے جہازوں میں سے کسی ایک نے نقصان پہنچایا۔جس کے بعد وہ جہاز سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچا سکتے تھے مگر انہوں نے یہ نہیں کیا اور دشمن کیساتھ لڑتے رہے لیکن بعد میں معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کہاں گئے۔انکی یہ کارنامہ پاکستان کے سپوتوں کیلئے بہادری کی علامت بن گیا۔

صرف یہی نہیں بلکہ پائلٹ یونس حسن نےسن 1965 کی جنگ میں دشمن کے 6 جہازوں سے اکیلے مقابلہ کیا اور 2 جہازوں کو مکمل تباہ کر دیا ، اس آپریشن میں انکے جہاز کو بہت سخت نقصان پہنچا مگر وہ پھر بھی اپنے جہاز سے باہر پیراشوٹ کے زریعے نہیں آئے بلکہ اپنے جہاز کو موفگظ طریقے سے زمین پر اتارا۔

فائٹر پائلٹ سیسل چودھری نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی 1965 کی جنگ اور 1971 کی جنگ میں حصہ لیا ۔ سن 1965 کی جنگ میں انہیں خطرناک ٹاسک دیا گیا کہ انہیں ریڈیو اسٹیشن ا مرتسر کو نشانہ بنانا ہے جس میں سیسل چودھری کامیاب ہو گئے، انکی اس بہادری پر انہیں ستارہ جرات دیا گیا مگر 13 اپریل سن 2ہ13 کو سیسل چودھری 70 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے اپنی ہمت و بہادری سے یہ 2 جنگیں تو جیت گئے مگر کینسر سے جنگ نہ جیت سکے۔

,p> یہاں یہ واضح کر دینا بہت ضروری ہے کہ یہ تمام وہ پائلٹ ہیں جنہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ جب بھی جہاز میں کوئی بھی خرابی ہو تو وہ اسے چھوڑ کر اپنی جان کی فکر کریں اور جہاز سے باہر آجائیں مگر ا مگر عوہمیں ہماری پاک فضائیہ پر فخر ہے کہ اس کے پائلٹ اپنی جان قربان کر د تے ہیں مگر قوم کو بڑے سانحے سے بچا لیتے ہیں کیونکہ اگر یہ ایسا نہ کریں تو انکا جہاز کسی بھی آبادی پر اکر گر سکتا جس سے بہت جانی و مانی نقصان ہو سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.