امی یہاں حالات ٹھیک نہیں، مجھے شہادت کی اجازت دیں۔۔ جانیے ان شہید جوانوں کی زندگی کے آخری ایسے لمحات، جسے سن کر آپ بھی رو جائیں گے

کیا کبھی اپنے پیارے کو یہ سوچ کر الوداع کیا ہے کہ کیا پتہ یہ آخری ملاقات ہو ہماری؟ ہم میں اکثر یہ بات نہیں سوچتے ہیں۔ لیکن پاکستان آرمی کے جوان جب چھٹیاں منا کر واپس ڈٰیوٹی کے لیے جاتے ہیں تو ان کے پیارے اپنے بچے کو ہر بار آخری بار ہی ملنے کا سوچ کر گلے لگاتے ہیں۔پاکستانی فوج کے ان جوانوں کے لیے یہ بہت ہی مشکل صورتحال ہوتی ہے جب وہ اپنے پیاروں کو الوداع کہہ کر جا رہے ہوتے ہیں۔ آج ایسی ہی چند پاکستانی فوج کے جوانوں کے بارے میں بتائیں گے۔

میجر مصطفٰی شبیر کا شمار ان جاںباز شہیدوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنی جان دے دی بلکہ اپنے بچوں کو بھی اس ملک کی خاطر چھوڑ گئے ہیں۔ میجر مصطفٰی 5 اپریل 2013 کو شمالی وزیرستان کی وادی تیرہ میں دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے سر میں گولی لگنے کی وجہ سے شہید ہو گئے تھے۔شہید میجر مصطفٰی کے دو بچے بھی تھے، جبکہ وہ اپنی فیملی پر جان نچھاور کر دیا کرتے تھے۔ وہ بے حد پیار کرنے والے انسان تھے۔

میجر مصطفٰی شہید کے دو بچے بھی ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں۔جبکہ شہید کی اہلیہ سعدیہ مصطفٰی کا کہنا ہے کہ میرے شوہر ایک بہترین انسان تھے، وہ نہ صرف ایک بہترین فوجی بلکہ بہترین مرد بھی تھے جو کہ گھر کی ذمہ داریوں کو بخوبی جانتے تھے۔اہلیہ کا کہنا تھا کہ میرے مصطفٰی کے جانے کے بعد بچوں کے لیے میں ہی ان کا والد ہوں اور والدہ بھی۔ میرے اوپر ڈبل ذمہ داری ہے۔ ویسے تو ہماری شادی والد نے کرائی تھی مگر مصطفٰی ایک بہترین انسان تھے، میرے شوہر کی کئی مقامات پر پوسٹنگ رہی، لیکن وہ جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داری کونبھاتے تھے۔

وہ کس طرح ملک کا دفاع کرتے تھے، ہم سے بالکل بھی شئیر نہیں کرتے تھے۔ اہلیہ کہتی ہیں کہ بیٹی راہ مین اس وقت 7 سال کی تھیں جب مصطفٰی کی شہادت کی خبر ملی تھی جبکہ عبداللہ ایک سال اور کچھ ماہ کے تھے۔ جب بیٹی سے والد سے متعلق پوچھا گیا تو راہ مین سے بات ہی نہیں کی گئی کیونکہ وہ اب بھی والد کو یاد کر کے اشکبار ہو جاتی ہے۔راہ مین کی والدہ کہتی ہیں کہ راہ مین کو اب بھی والد یاد آتے ہیں، دراصل وہ اپنے والد کو بہت پیار کرتی تھی،جبکہ والد بھی راہ مین کو بے حد پیار کرتے تھے۔ آخری ملاقات سے متعلق اہلیہ بتاتی ہیں کہ میری مصطفٰی سے آخری بار ملاقات نہیں ہو سکی تھی، کیونکہ مصطفٰی سوات آپریشن کے بعد فورا وزیرستان چلے گئے تھے۔ اسی لیے صرف فون پر ہی بات ہوئی تھی، انہوں نے کہا کہ میں وزیرستان جا رہا ہوں۔حالانکہ پہلے کبھی مصطفیٰ نے مجھے نہیں بتایا تھا، لیکن اس بار پہلی مرتبہ مصطفیٰ نے مجھے اس بارے میں آگاہ کیا تھا۔ جبکہ سعدیہ نے مصطفٰی کی ان تمام یادگار چیزوں کے بارے میں بھی بتایا جو کہ اب انہوں نے سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں۔ سعدیہ نے اس گھڑی کے بارے میں بھی بتایا جو انہوں نے مصطفیٰ کو ان کی سالگرہ کے موقع ہر تحفے میں دی تھی۔

لانس نائیک قیصر نوید شہید 15 اگست 2019 کو بھارتی اشتعال انگیزی کے باعث لائن آف کنٹرول پر دوران ڈیوٹی شہید ہو گئے تھے، لانس نائیک قیصر کا شمار پاکستانی فوج میں ایک بہترین جاںباز سپاہی کے طور پر ہوتا ہے۔لانس نائیک قیصر نہ صرف اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھاتے تھے، بلکہ وہ اپنے گھر والوں کا بھی خیال رکھنے والے، والد کے ساتھ ساتھ خود بھی اپنے گھر والوں کے لیے ایک سایہ کے طور پر سامنے آئے تھے۔شہید کے والد کا کہنا تھا کہ مجھےمیرے بیٹے پر فخر ہے، اگرچہ بیٹے کی شہادت نے والد کو افسردہ کیا تھا مگر وہ اس بات سے خوش تھے، کہ بیٹے نے شہادت والی موت حاصل کی، اپنی جان دے دی، مگر دشمن کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔

جبکہ والدہ کا کہنا تھا کہ بیٹے نے مجھے فون کیا اور لائن آف کنٹرول پر خراب حالات کے بارے میں آگاہ کیا۔ بیٹے کی آواز نے مجھے مزید پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا، لیکن جب اس نے یہ کہا کہ یہاں حالات بہت خراب ہیں، آپ مجھے شہادت کی اجازت دیں، یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔یہ بات سن کر شہید کی والدہ کا دل دہل گیا تھا، ایک ماں کے لیے یہ سوچنا بھی آسان نہیں ہے کہ اس کا جواں سال لخت جگر ہو سکتا ہے اب اس سے نہ مل سکے۔ لیکن والدہ نے ہمت دکھاتے ہوئے بیٹے کو حوصلہ دیا اور کہا کہ بیٹا تم اللہ کے حوالے ہو۔ والدہ کہتی ہیں کہ مجھے یقین ہے میرے بیٹے کی شہادت رنگ لائے گی اور اس ملک کو اللہ پاک اپنے حفاظت میں رکھے گا۔

جنوبی وزیرستان کے علاقے شاقائی میں دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے میں اپنے ٹروپ کی سربراہی کرتے کیپٹن عبداللہ شہید ہو گئے تھے۔ کیپٹن عبداللہ کی عمر 25 سال تھی، اس جواں عمر میں وہ اپنے ملک کی حفاظت سے پیچھے نہیں ہٹے بلکہ بزدلانہ حملے کا منہ توڑ جواب دیا تھا، اپنے ٹروپ کے دیگر ساتھیوں کو بچاتے ہوئے کیپٹن عبداللہ نے شہادت حاصل کی تھی۔کیپٹن عبداللہ شہید کے والد کہتے ہیں کہ میرے 5 بچے ہیں جبکہ بڑا بیٹا بھی آرمی ہی میں ہے، لیکوہ غازی بن کر آیا ہے۔ مجھے اپنے پانچوں بچوں میں عبداللہ سب سے پیارا تھا۔

والد کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیٹے کو شہادت کا اس حد تک شوق تھا کہ اپنا موبائل مجھے دے دیا، دوسرا موبائل چھوٹے بھائی کو دے دیا، جبکہ اپنا لیپ ٹاپ بھی بھائی کو دے دیا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ شہادت کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ شہادت کے حوالے سے شہید کا رویہ اس حد تک تبدیل ہو چکا تھا کہ وہ کہہ اپنے ساتھیوں سے کہہ رہے تھے کہ یہ مت سمجھنا کہ آپ مجھ سے پہلے شہید ہوجائیں گے، پہلے میں ہی شہید ہوں گا۔چھوٹے بھائیوں سے بے حد پیار کرتا تھا، اگر گھر میں جھگڑا ہوتا تھا تو وہ خود ہی گھر کے جھگڑوں ختم کر لیتا تھا، حالانکہ مجھے پتہ بھی نہیں چلا تھا۔ والد اس وقت اشکبار ہو گئے تھے جب انہیں اس بارے میں پتہ چلا کہ شہید نے اپنے محلے والوں کی بھی مالی مدد کی تھی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *