لحسن کی مدد سے مردانہ کمزوری کا علاج جانۓ کیسے؟

کچھ دوستوں نے کہا اتنا بولڈ لکھا یہ آپ ہی کر سکتی ہیں۔ بلند تشکر! کچھ دوستوں نے کہا اتنا بولڈ لکھا ایک خاتون کو ایسا نہیں لکھنا چاہیے۔ خاموش مسکراہٹ!

یہی تو مقصد تھا جس کے لیے ایسے سماجی ناقابل قبول (social taboo) طرز کے عنوان کے ساتھ کالم تحریر کیا تھا کہ معاشرے کو اندازہ تو ہو، لوگوں کو جھنجھوڑا تو جائے کہ ہمارے یہاں کی بہت بڑی علت ہے کیا۔

مرد کی کمزور بیمار سوچ کس طرح اس دقیانوس، تنگ نظر، پدرسری معاشرے میں پہلے سے گھٹن کی شکار عورت کے لیے سانس لینا بھی کس قدر دشوار اور محال کر رہی ہے، مرد کو کم از کم اس کا احساس تو ہو۔

مردانہ کمزوری صرف جنسی ہی نہیں، نفسیاتی، اخلاقی اور سماجی برائی ہے جس کا بدقسمتی سے نشانہ صرف عورت ذات ہی بنتی ہے۔ مرد حضرات کی بہت بڑی اکثریت میں سوچ کی اس مردانہ کمزوری کا مرض پایا جاتا ہے اور تشویشناک بات یہ ہے کہ ایک بہت بڑے طبقے کو یا تو اس کمزوری کا احساس نہیں ہوتا یا اگر علم ہوتا بھی ہے تو اس مردانہ کمزوری کو تسلیم کرنا اپنی ہتک اور تذلیل تصور کیا جاتا ہے۔

یہ وہ علت ہے جو عورت کو محض جنسی اور جسم کی بنیاد پر کم تر، حقیر اور برابر کا انسان نہیں سمجھتی۔ اس مرض کے شکار مریض کے مطابق مرد کو عورت پر ہر طرح سے فضیلت حاصل ہے اور اسے ثابت کرنے کے لیے مریض ہر طرز کی مذہبی، تاریخی، سماجی، اخلاقی اور معاشرتی دلیل گھڑ لائے گا۔

آپ چاہے سر پٹخیں یا پیر، مریض اپنی بنا سر پیر والی لاجک پر بضد ہی رہے گا۔ ہمارے بہت سے (مرد) قارئین کو اعتراض ہوگا کہ اس سوچ کے حامل طبقے کو بار بار ’مریض‘ کیوں تحریر کیا جا رہا ہے؟ حق تو یہی ہے کہ ایسی سوچ ایک مرض ہی ہے، مہلک مرض، اور اس سوچ کا حامل مریض ہے۔

جب تک حقیقت کی شناخت بنیادی طور پر ہی درست نہیں ہوگی نہ تو اس کا تدارک کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی علاج۔ یہ آکاس بیل کی مانند ایک ایسی خود رو چیز ہے جو انسانی سوچ کی نشونما اور وسیع الذہنی کی جڑوں سے روشن خیالی کا آب حیات نچوڑ کر ذہن کو کھوکھلا اور ٹنڈ منڈ کانٹے دار جھاڑیوں کی آماجگاہ بنا چھوڑتی ہے۔ مرض کو مرض کہیں اور شکار کو مریض، تبھی درست سے ہو پائے گی تشخیص۔

یوں سچ کہیں تو اس مردانہ کمزوری کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا لیکن اب چونکہ زمانہ اور سائنس دونوں خوب ترقی کر چکے ہیں لہذٰا قوی امید ہے کہ جدید طریقہ علاج سے اس مردانہ مرض کا درست اور تسلی بخش علاج، رفتہ رفتہ ہی سہی، مگر ممکن ضرور ہے۔

آج کالم کی تحریر کے وقت دل افسردہ بھی ہوا کہ جس مسئلے پر دو سال پہلے کے ایک واقعے کی بنیاد پر تحریر کیا تھا، آج دو سال بعد بھی وہی واقعہ خود کو دہرا رہا ہے، وہی مردانہ کمزوری، وہی عورت ذات کا نشانہ بنایا جانا، وہی چند آوازوں کا احتجاج کے طور پر نقار خانے میں طوطی کی مانند گونجنا۔۔۔۔۔ لیکن پھر خیال آیا کہ یہ بار بار کا آواز احتجاج بلند کرنا بھی تو طویل المیعاد علاج کا ایک حصہ ہے۔

زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ گذشتہ کالم کی بنیاد بعض عام پاکستانی مردوں کا مکروہ طرز عمل تھا تو اس بار تشویشناک حد تک الارمنگ صورت حال کہ یہ کالم ردعمل ہے وزیراعظم پاکستان جیسی شخصیت کی سوچ اور الفاظ کے بیان کا۔

یہ وہی سوچ ہے جس کے مطابق معاشرے کی ہر برائی ہر خامی کے پیچھے عورت کا کردار پنہاں ہے۔ یہ وہی پدر سری سوچ ہے جو اپنے تراش کردہ مخصوص سانچوں کے پیمانوں میں ہی عورت کو پرکھنے کی عادی ہے۔ یہ وہی معذور سوچ ہے جو عورت کے وجود اور موجود ہونے کو صرف اور صرف مرد کے ساتھ اور ساکھ کی بدولت قابل عزت اور قابل قدر گردانتی ہے۔

فلاں کی بیوی، فلاں کی بیٹی، فلاں کی ماں، فلاں کی بہن ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس عورت کا ناطہ کسی مرد سے نہ ہو، یہ سوچ اسے معاشرے میں جینے کے قابل بھی تصور نہیں کرتی۔ مہد سے لحد تک عورت کی زندگی کے تمام فیصلے پدر سری معاشرے کا مرد ہی کرتا ہے۔ بڑی کیسے ہوگی، ادب آداب کیسے سکھائے جائیں گے، تعلیم کب، کہاں اور کتنی حاصل کرنی ہے، کس عمر میں کپڑے کیسے زیب تن کرنے ہیں چال ڈھال کیسی رکھنی ہے شادی کب کہاں اور کیسے کرنی ہے، نوکری کرنی بھی ہے یا نہیں، بچے پیدا بھی کرنے ہیں یا نہیں اور کتنے بچے پیدا ہوں گے؛ عورت کی زندگی ایک قفل اور چابی مرد کے ہاتھ۔۔

قصہ مختصر یہی وہ بنیادی سوچ ہے جو سمجھتی ہے کہ عورت کے ساتھ کسی مرد کی طرف سے اگر کوئی زیادتی یا جرم سرزد ہو بھی جائے تو ذمہ دار لازمی طور پر عورت ہی ہوگی۔ مرد نے تھپڑ مار دیا، تشدد کیا، لازماً عورت ہی یا تو زبان دراز ہوگی یا کوئی غلطی کی ہوگی۔ مرد نے شادی سے انکار کر دیا یا طلاق دے دی، لازماً عیب یا تو عورت کے کردار یا جسم میں ہی ہوگا۔

مرد نے قتل کر ڈالا، لازماً عورت میں کوئی ایسی بات دیکھی ہوگی جو ناقابل برداشت یا عزت کے منافی ہوگی۔ راہ چلتے عورت کا دوپٹہ کھینچ لیا، لازماً دوپٹہ صحیح سے نہیں لیا ہوگا۔ برقعہ پوش کو اوباش مرد نے چھیڑ دیا، عورت کے گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ آدھے بازو یا بغیر بازو کے قمیض یا چھوٹی قمیض یا جینز یا سکرٹ پہنی عورت تو بھئی کسی کھاتے میں ہی نہیں آتی۔ وہ تو چلتی پھرتی دعوتِ عام ہے۔

ایسی عورت کے ساتھ کوئی جرم زیادتی ہو جائے، وہ تو ہونا ہی تھا۔ چھوٹی بچیوں، بوڑھی عورتوں، قبر کی مردہ عورتوں کے ریپ اس لیے ہوتے ہیں کہ نوجوان عورتیں فحاشی پھیلاتی ہیں اور مرد کے پاس ”temptation” کا بہاؤ نکالنے کا کوئی اور راستہ نہیں بچتا۔ یہی مردانہ کمزوری ہے!

چھوٹی عمر کے لڑکوں کے ساتھ بھی زیادتی اسی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہی مردانہ کمزوری ہے!

افسوس ہوا کہ وزیراعظم جیسی پختہ عمر جہان دیدہ شخصیت نے اسی مردانہ کمزوری کا ذمہ دار اور نشانہ عورت ذات کو ٹھہرایا۔ وزیر اعظم خود دو نوجوان صاحبزادوں کے والد ہیں جن کی تمام پرورش ایسے ہی مغربی ملک میں ہوئی ہے جہاں خواتین کا مختصر لباس پہننا معمول ہے۔ بطور والد وزیراعظم نے اپنے صاحبزادوں کے لیے کیا پیغام چھوڑا ہے؟

ملک کا وزیراعظم نوجوان قوم کے لیے بھی والد کا درجہ رکھتا ہے۔ اپنی قوم کے نوجوانوں کے لیے وزیراعظم صاحب نے کیا درس دیا ہے؟ یہی وہ سوچ ہے جو مردانہ کمزوری ہے! اور وقت آگیا ہے کہ اس کا درست علاج کیا جائے۔ ایسی سوچ کے حامل کو مریض اور اس سوچ کو مرض سمجھا جائے۔ ایسی سوچ پر عمل کرنے والے کو مجرم اور جرم کی یقینی اور بھرپور سزا دی جائے

مذہب پر عمل کرنے سے اگر ایسے واقعات کی بیخ کنی ہوتی تو مساجد، مدارس اور چرچ میں زیادتی کے واقعات صفر ہوتے۔ مذہبی تعلیمات مکمل پیکج کا محض ایک حصہ ہیں۔ گھریلو، تعلیمی، سماجی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت اور سب سے بڑھ کر جرم کو جرم کہنا، مجرم کو ذمہ دار کہنا اور جرم کی یقینی اور بھرپور سزا ہی اس مردانہ کمزوری کا درست علاج ہے!

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *