”انسان کی وہ غلطی جس پر اللہ پاک ہمیشہ کے لیےرزق کا دروازہ کر دیتے ہیں حضرت علی ؓ نے فر ما یا“

حضرت علی ؓ ارشاد فر ما تے ہیں کہ گ ن ا ہ وں کی تین تاسیر پکی ہیں کہ اللہ پاک رزق کو تنگ کر تے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بڑے بڑے

مال دار لوگ بھی فیکٹریوں کے مالک بھی اگر اللہ کو ناراض کرنے لگ جا ئیں تو ان پر بھی اللہ پاک رزق تنگ کر دیتے ہیں کیا؟ دو کنٹینر یہاں نہ پہنچ سکتے۔ اس کی ادا ئیگی گئی ورکرز بہت زیادہ احتجاج کر رہے ہیں تنخواہ نہیں مل رہی ورکرز میڈیا پر آ کر بیا نا ت دے رہے ہیں کہ ہمیں کافی عرصے سے ہماری تنخوایں نہیں مل رہی ہیں ادھر سے مال تیار ہوا نہیں کچھ سیکنڈ مال تیار ہوا نہیں پریشان بیٹھے ہیں۔

کہ اب کام کیسے چلے گا کہنےکو کروڑ پتی مگر پریشان کہ اب کیا بنے گا اللہ پاک دے کر بھی بندے کو ٹائٹ کر دیتے ہیں کبھی کبھی رزق کے حصول میں مشکل کر دیتے ہیں ایک شخص عشاء کی نماز کے بعد جب سید نا حضرت علی ؓ نماز ادا کرکے اپنی تسبیح کر رہے تھے تو آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے علی ؓ میں بہت مالدار تھا پھر اچانک گھر سے جانے لگ پڑا ہے چلتا پھرتا کاروبار بند ہونے کے قریب آ گیا ہے اب میں کیا کروں کہ جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتا ہوں کہ سونے میں بھی ہاتھ ڈالتا ہوں تو مٹی بن جا تا ہے۔

وہ کام بالکل ختم ہو جا تا ہے یہ شخص اپنے سارے شکوے سنا رہا تھا تو حضرت علی ؓ اس کی کمزوری سمجھ گئے اور فر ما یا کہ اے شخص تو اپنے گ ن ا ہ وں کو ترک کر دے گا ایسا کر ے گا تو تیرے گھر میں رزق آنا شروع ہو جا ئے گا تیرے اٹکے ہوئے کام ہو نا شروع ہو جا ئیں گے وہ شخص کہنے لگا کہ آپ مجھے

اشارہ دیجئے کہ میں کیسے گ ن ا ہ وں کو چھوڑ دوں تو آپ نے فر ما یا کہ اپنی زندگی میں جو روزانہ کر تا ہے اور جان بوجھ کے کر تا ہے اگر نماز تو نہیں پڑھتا اور جان بوجھ کے جب اذان ہو تی ہے مسجد کی جانب نہیں جا تا تو نماز پڑھنا شروع کر دے اگر ش ر ا ب کو منہ لگا تا ہے۔

تو چھوڑ دے جو برائی جان بوجھ کے کر تا ہے وہ برائی چھوڑ دے وہ گ ن ا ہ چھوڑ دے اگر کوئی جانے انجانے میں تجھ سے کوئی گ ن ا ہ سر زد ہو جا ئے تو رات کو سونے سے پہلے اپنے گ ن ا ہ وں کی معافی مانگے۔ جو گ ن ا ہ جانے انجانے میں ہوئے تو تجھے پتہ ہے تو دلوں کے راز جا نتا ہے یا اللہ میرے گ ن ا ہ وں کو معاف فر ما دے انشاء اللہ یہ کام تو کر ے گا تو تیرے اٹکے ہوئے کام بھی ہو نا شروع ہو جا ئیں گے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *