پرانے سے پرانے دمہ کا مرض ختم

دمہ پھیپھڑوں میں موجود نالیوں کے کمزور اور باریک ہونے کے سبب سانس لینے میں دشواری کو کہا جاتا ہےاس کے علامات میں سانس لیتے وقت سیٹی کی آواز آنا سانس لینے میں دشواری ہونا سانس کا پھول جانا اور نیند میں بے چینی ہونا شامل ہے دمہ بہت سی وجوہات سے ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کو یہ مرض ورثے میں ملتا ہے

اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی دھول مٹی اور فضائی آلودگی کے سبب سانس کی نالیوں میں انفیکشن شامل ہو سکتی ہے ایلوپیتھی میں دمہ کا کوئی خاطر خواہ علاج موجود نہیں صرف علم طب میں اس بیماری کا علاج ممکن ہے اس کے لئے بہت ہی آسان اور مفید ٹوٹکہ پیش کیا جارہا ہے۔

جس سے انشاء اللہ پندرہ دن کے اندر آپ کو واضح فرق نظر آئے گا اور اس ٹوٹکے متواتر استعمال سے دمہ کی شکایت بالکل دور ہوجائے گی۔آپ نے پانچ عدد انجیر لینے ہیں اور آدھا کلو پانی میں ڈال کر بوائل کر لینے ہیں جب پانی آدھا کپ رہ جائے تو پانی پی لینا ہے اور انجیر کھا لینی ہے .انشاء اللہ پندرہ دن میں دمہ کی شکایت دور ہوجائے گی۔دمہ ہمارے ملک کی عام بیماریوں میں سے ایک ہے

اس کے تین بڑے اسباب ہوتے ہیں الرجی جراثیم کا حملہ اور نفسیاتی عوامل الرجی بے شمار اشیا کی وجہ سے ہوسکتی ہے. ان میں گرد،پھولوں کا بور،حیوانی بال بالخصوص گھوڑے اور بلی کے بال اور بالعموم کتے بھیڑ بکری کے اور انسانی بال سوتی اونی اور ریشمی کپڑے کے کارخانوں سے اُڑنے والا رﺅاں
خوشبوئیں گندم باجرا مکئی اور چاول وغیرہ کے بھٹوں کا بور سانس کے راستے مریض کے جسم میں داخل ہوکر الرجی پیدا کرسکتے ہیں۔

جس کا اظہار دمے کے دورے کی صورت میں ہوتا ہے مچھلی انڈا گوشت دودھ اسپرین وغیرہ کھانے سے بھی الرجی ہوسکتی ہے اس کے علاوہ پنسلین انسولین اور سائٹامین کے ٹیکے بھی الرجی کا سبب بن سکتے ہیں موسم کی اچانک تبدیلی سخت سردی ،سخت گرمی یا تیز دھوپ بھی دمے کا سبب بن سکتے ہیں

جراثیمی دمہ بھی ایک قسم کی الرجی ہی کی وجہ سے ہوتا ہے ہمارے جسمانی دفاع کو توڑتے وقت بے شمار جراثیم ہلاک ہوجاتے ہیں اور ان کے ٹوٹ پھوٹ جانے سے حاصل ہونے والا موادالرجی کو جنم دیتا ہےاس طرح ناک منہ گلے اور پھیپھڑوں کی بیماریاں بھی دمے کے اسباب میں نفسیاتی عوامل کو اہم حیثیت حاصل ہے

تمام مذکورہ بالا اسباب ہر آدمی پر ایک جیسا اثر نہیں کرتے بلکہ ہر شخص ان میں سے چند خاص اسباب سے الرجک ہوتا ہے۔ مراض کے لیے ان اسباب سے الرجک ہوتا ہے مریض کے لیے ان اسباب کا پتا لگانا عموماً مشکل نہیں ہوتا یہ چیز علاج میں ضرور مدنظر رکھی جانی چاہیے عموماً دمے کے دورے سے دو تین گھنٹے پہلے مریض بے چینی محسوس کرتا ہے اور اس کی ناک میں یا ٹھوڑی پر کھجلی محسوس ہوتی ہے وہ نفاہت محسوس کرتا ہے

لیکن یہ سگنل ہر بار دیکھنے میں نہیں آتے اور ہر مریض کے لیے مختلف ہوسکتے ہیں دمہ کا دورہ عموماً رات کو نیند کی حالت میں پڑتا ہے مریض گلا گھٹتا ہوا محسوس کرتا ہے سانس پھول جاتی ہے

مریض کو سانس لینے میں کافی دقت پیش آتی ہے وہ لمبی سی سانس اندر کھینچتا ہے اور جلدی سے پھیپھڑوں کی سانس باہر نکال دیتا ہے سانس کے ساتھ پیدا ہونے والی آواز کافی دور تک سنی جاسکتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.