Home / Interesting / پہلے میرے پاس پیسے نہیں تھے اور بیٹی کو علاج کے لیے اسپتال لے جانا تھا پھر ۔۔ جانیے فوڈ پانڈا کے مالک کی کہانی کہ کیسے وہ دیکھتے ہی دیکھتے غریب سے امیر ہوا؟

پہلے میرے پاس پیسے نہیں تھے اور بیٹی کو علاج کے لیے اسپتال لے جانا تھا پھر ۔۔ جانیے فوڈ پانڈا کے مالک کی کہانی کہ کیسے وہ دیکھتے ہی دیکھتے غریب سے امیر ہوا؟

پہلے میرے پاس پیسے نہیں تھے اور بیٹی کو علاج کے لیے اسپتال لے جانا تھا پھر ۔۔ جانیے فوڈ پانڈا کے مالک کی کہانی کہ کیسے وہ دیکھتے ہی دیکھتے غریب سے امیر ہوا؟

آج کل ایک آرڈر پر فوڈ پانڈا ڈیلیوری رائیڈر آپ کو گھر پر کھانا دینے پہنچ جاتا ہے۔ یہ سروس دن بہ دن تیزی کے ساتھ ترقی کر رہی ہے۔ فوڈ پانڈا پاکستان کی سب سے زیادہ اور کامیاب ترین فوڈ کمپنی ہے جو 2011 میں نعمان سکندر مرزا نے لانچ کرائی۔

نعمان سکندر مرزا فوڈ پانڈا کے سی ای او ہیں جنہوں نے پاکستان میں یہ ملٹی نیشنل کمپنی متعارف کروائی۔فوڈ پانڈا ڈیلیوری کمپنی کے مالک سکندر مرزا بھی عام شہری کی زندگی گزارتے تھے۔ انہوں نے بھی اپنی زندگی میں مشکل حالات کا سامنا کیا جس کے بعد آج وہ کامیابی کی منازل طے کرتے کرتے یہاں تک پہنچے۔ ایک تقریب میں نعمان سکندر نے اپنے متعلق بتایا کہ وہ پڑھنے لکھنے میں شروع سے ہی اچھے نہیں تھے۔ ان کی والدہ ان سے کہا کرتی تھیں کہ تمھارے کزنز اچھے نمبروں سے پاس ہوتے ہیں اور میں اچھے نمبر حاصل نہیں کر رہا۔ پڑھائی میں اچھا نہ ہونے کی وجہ سے میرے ماں باپ نے مجھے بہت ڈانٹا۔

نعمان نے کہا کہ انہوں نے برطانیہ سے تعلیم حاصل کی لیکن بعدازاں انہوں نے پاکستان آنے کا ارادہ کیا اور وہ یہاں آگئے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وہ پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔نعمان سکندر نے بتایا کہ جب وہ برطانیہ میں نوکری کرتے تھے۔ وہاں ان کے پاس 60 لاکھ پاؤنڈ جمع ہوئے اور اس رقم کو لے کر وہ پاکستان آگئے تاکہ یہاں ملک کے لیے کچھ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہاں آکر پراپرٹی خریدی بعدازاں میں نے جب کمپنی بنانے کے ارادہ کیا تو میں نے اپنے والد کو اپنی پراپرٹی 16 لاکھ میں بیچ دی تھی۔ یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ میں کمپنی کا آغاز کر سکوں۔نعمان نے بتایا کہ انہوں نے کچھ فرنیچر خریدے، لیپ ٹاپ خریدے ایک سے دو کمروں میں ایک ٹیم بنائی۔ تب میں نے اپنی پہلی کمپنی کا نام فوڈ کنینشن پاکستان رکھا تھا۔

فوڈ پانڈا کے سی ای او نے بتایا کہ کمپنی کے شروع کے 12 سال میرے لیے انتہائی مشکل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میرا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ نعمان نے کہا کہ کمپنی شروع ہونے کے بعد بھی ان کے پاس بالکل پیسے نہیں تھے۔ میری بیٹی بیمار ہوگئی تھی میں اسے اسپتال لے کر گیا اور بیٹی کے علاج کے پیسے میں نے اپنے والد سے لیے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سال 2011 کے دنوں میں کمپنی کا آغاز کیا اور یہ وہ دور تھا جب کراچی میں ہر دوسرے دن ہڑتالیں ہوجایا کرتی تھیں اور لوڈ شیڈنگ عروج پر تھی۔ انہوں نے بتایا کہ میرا پختہ ارادہ تھا کہ مجھے کچھ کرنا ہے اور میں اپنے مقصد میں کبھی بیچھے نہیں ہٹا۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے میری محنت کا بہترین پھل آج مل رہا ہے۔ فوڈ پانڈا ایشیا کا شمار آج بڑی فوڈ ڈیلیوری کمپنیز میں ہوتا ہے۔

About admin

Check Also

جُڑواں بچے کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ چند ایسے راز جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

اولاد قدرت کی عظیم نعمت ہے اور جڑواں اولاد تو خصوصی طور پر منفرد قسم …

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Recent Comments

No comments to show.

Powered by themekiller.com